خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 712
خطبات مسرور جلد سوم 712 خطبہ جمعہ 19 دسمبر 2005ء لوگوں کو احساس رہے کہ جماعت کے ابتدائی بزرگوں نے اور ان مبلغین نے اس ملک میں احمدیت کو پھیلانے اور اپنے اندر احمدیت کو قائم رکھنے کے لئے کیا کیا کام کئے ہیں۔اس سے پوری تصویر تو سامنے نہیں آتی لیکن کچھ نہ کچھ پتہ لگ جاتا ہے۔اس کے لئے آپ جب تک ان پرانے بزرگوں کی تاریخ نہ پڑھیں آپ کو پتہ نہیں لگے گا کہ وہ لوگ کس طرح قربانیاں دیتے رہے۔تو بہر حال ان لوگوں نے قربانیوں کی بڑی اعلی مثالیں قائم کیں۔آپ کو میں اس لئے بتا رہا ہوں کہ ان کی قربانیوں کو بھلا نہ دیں۔ہمارے مبلغین کے لئے بھی ان مبلغین کی قربانیاں قابل تقلید ہیں۔اپنے بزرگوں کے اس عمل اور احمدیت کے لئے اس درد کو بھلا نہ دیں۔جس طرح ان بزرگوں نے کوشش کی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کو سیکھیں اور اسے اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں اور پھر اسے آگے پھیلائیں ، آپ بھی اس پر عمل کریں۔آپ کے بزرگوں نے احمدیت کو اس لئے قبول کیا کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو سن کر اس پر عمل کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے احمدیت کی تبلیغ کو آگے اس لئے پھیلایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق کہ جو تم اپنے لئے پسند کرو وہ اپنے بھائی کے لئے بھی پسند کرو اس لئے انہوں نے اس فرض کو ادا کیا۔اب آپ کا بھی فرض بنتا ہے کہ اس نکتہ کو سمجھیں اور جہاں احمدیت کے انعام کے وارث ہونے کے بعد اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرتے چلے جانے کی کوشش کرتے رہیں، اپنی نسلوں میں بھی احمدیت کی حقیقی تعلیم کو دلوں میں راسخ کئے جانے کی کوشش کرتے چلے جائیں۔وہاں اس خوبصورت پیغام کو دوسروں تک بھی پہنچائیں۔اور یہ کام آپ اس وقت احسن رنگ میں کرسکیں گے جب اپنے ہر عمل کو اللہ اور اس کے رسول کے حکموں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں گے۔یا درکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ وعدہ کیا ہے کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔اور 1907ء میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی زندگی میں ہی یہ پیغام اس جزیرے میں پہنچ گیا جس کو زمین کا کنارہ بھی کہا جاتا ہے اور بغیر کسی مبلغ کے یہاں اللہ تعالیٰ نے دلوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف پھیرنا