خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 61
خطبات مسرور جلد سوم 61 خطبہ جمعہ 14 فروری 2005ء آپ کی مدد سے ہاتھ اٹھا سکے۔نہ ادھر رہے نہ اُدھر رہے۔تو ابن اسحاق کہتے ہیں: ” جب قریش نے ابو طالب سے یہ شکایت کی ، ابوطالب نے حضور کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ اے میرے بھتیجے! تمہاری قوم نے میرے پاس آ کر تمہاری شکایتوں کا دفتر کھولا ، پس میں سمجھتا ہوں تم اپنی اور میری جان ہلاک کرنے کی بات نہ کرو اور ایسے کام کی مجھ کو تکلیف نہ دو جس کی مجھ میں طاقت نہیں ہے۔راوی کہتا ہے حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ خیال کیا کہ اب میرا چھا میری مدد نہیں کر سکتا اور ان کو جواب دیا کہ اے میرے چا! اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ میں سورج اور بائیں طرف چاند بھی لا کر رکھ دیں تب بھی میں اس کام کو نہیں چھوڑ سکتا۔یہاں تک کہ خدا اس کو پورا کر دے یا خود میں اس میں ہلاک ہو جاؤں۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو نکل آئے ، ابو طالب نے آپ کو آواز دی اور کہا کہ اے بھتیجے ادھر آؤ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے کہا، دیکھو جو تمہارا جی چاہے کرو، میں ہرگز تم کو نہیں چھوڑوں گا اور سب سے سمجھ لوں گا۔(السيرة النبوية لابن هشام، مباداة رسول الله ﷺ قومه وما كان منهم ) اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود کو الہام بھی اس طرح بتایا۔آپ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ” جب یہ آیتیں اتریں کہ مشرکین رجس ہیں ، پلید ہیں ، شَرُّ الْبَرِيَّہ ہیں ، سُفَهَاء ہیں اور ذریت شیطان ہیں۔اور ان کے معبود وَقُودُ النَّارِ اور حَصَبُ جَهَنَّم ہیں تو ابو طالب نے آنحضرت ﷺ کو بلا کر کہا کہ اے میرے بھتیجے اب تیری دشنام دہی سے قوم سخت مشتعل ہو گئی ہے اور قریب ہے کہ تجھ کو ہلاک کریں اور ساتھ ہی مجھ کو بھی۔تو نے ان کے عقلمندوں کو سفیہ قرار دیا اور ان کے بزرگوں کو شر البر یہ کہا اور ان کے قابل تعظیم معبودوں کا نام هَيْزَم جَهَنَّم اور وَقُوْدُ النَّار رکھا۔( یعنی آگ کا ایندھن اور عام طور پر ان سب کو رجس اور ذریت شیطان اور پلید ٹھہرایا۔میں تجھے خیر خواہی کی راہ سے کہتا ہوں کہ اپنی زبان کو تھام اور دشنام دہی سے باز آجاور نہ میں قوم کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں کہا کہ اے چچا یہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ اظہار واقعہ ہے اور نفس الا مر کا عین محل پر بیان ہے اور یہی تو کام ہے جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں۔اگر اس سے