خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 645
خطبات مسرور جلد سوم 645 خطبہ جمعہ 28 اکتوبر 2005ء طرف سے اس قسم کا اقرار نہ ہوتا تو پھر تو بہ کا منظور ہونا ایک مشکل امر تھا۔سچے دل سے جو اقرار کیا جاتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر خدا تعالیٰ بھی اپنے تمام وعدے پورے کرتا ہے جو اس نے تو بہ کرنے والوں کے ساتھ کئے ہیں اور اسی وقت سے ایک نور کی تحابی اس کے دل میں شروع ہو جاتی ہے جب انسان یہ اقرار کرتا ہے کہ میں تمام گناہوں سے بچوں گا اور دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا“۔(البدرمورخه 24 اپریل 1903ء صفحه 107 کالم نمبر 1) پس یہ سچے دل کا اقرار ہے یہی ہے جو بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ان بقیہ دنوں میں ہمیں خاص طور پر یہ اقرار کرنا چاہئے اور دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس اقرار پر قائم رہیں اور رمضان کے بعد بھی جو تبدیلیاں ہم نے اپنے اندر پیدا کی ہیں ان کو قائم رکھنے کی کوشش کریں، ان کو جاری رکھ سکیں۔ہم اپنے اس عہد پر قائم رہیں کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے اور دعا کے ساتھ ساتھ جب ہم اپنا جائزہ لیں گے کہ کیا ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھ رہے ہیں تو پھر ہمیں مزید اصلاح کی طرف توجہ پیدا ہوگی، مزید تو بہ کرنے کی توفیق ملے گی۔اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق ملے گی۔نیک اعمال بجالانے کی توفیق ملے گی۔اور جب اس طرح ہو رہا ہوگا تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق ہماری توبہ قبول کرتے ہوئے ہماری طرف متوجہ ہوگا، مزید نیکیوں کے دروازے کھلتے چلے جائیں گے۔پس یہ برکت اسی وقت پڑے گی جب اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے سب کام ہورہے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” دعا خدا تعالیٰ کی ہستی کا زبردست ثبوت ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے کہ ﴿ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيْبٌ۔أجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ﴾ (البقرة : 187) یعنی جب میرے بندے تجھ سے سوال کریں کہ خدا کہاں ہے اور اس کا کیا ثبوت ہے تو کہہ دو کہ وہ بہت ہی قریب ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب کوئی دعا کرنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کو جواب دیتا ہوں۔یہ جواب کبھی رویا صالحہ کے ذریعہ ملتا ہے کبھی کشف اور الہام کے واسطے سے اور علاوہ بریں دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں کا اظہار ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا قادر ہے جو کہ