خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 616
خطبات مسرور جلد سوم 616 خطبہ جمعہ 14 اکتوبر 2005ء این جی اوز بلکہ پوری حکومتی مشینری بھی اس کو نہیں سنبھال سکتی۔ایسی آفتیں جب آتی ہیں تو بڑی بڑی حکومتیں بھی بحالی کا کام نہیں کر سکتیں۔اب دیکھیں گزشتہ دنوں امریکہ میں جو دو طوفان آئے تھے ، پہلے نے جو تباہی پھیلا ئی تھی ان کا خیال ہے کہ اس شہر کو آباد کرتے ہوئے تو کئی سال لگ جائیں گے۔تو پاکستان کے پاس تو وسائل بھی اتنے نہیں ہیں۔بہت تھوڑے سے وسائل ہیں اور تباہی بہت وسیع علاقے میں پھیلی ہوئی ہے۔یہ تو اگر پوری قوم جذبے سے کام کرے، ایمانداری سے امداد کی پائی پائی بحالی پر خرچ ہو تب بھی کئی سال لگ جائیں گے۔پاکستان کے ایک ٹی وی چینل پر ڈسکشن (Discussion) ہو رہی تھی، کوئی ایم این اے یا دوسرے سیاسی لوگ مشورے دے رہے تھے کہ ایم این ایز وغیرہ کے ڈویلپمنٹ فنڈ ز بحالی پر خرچ کر دیئے جائیں۔بڑی مدد ہو جائے گی۔کوئی صاحب کہہ رہے تھے کہ اب عید آ رہی ہے، فطرانہ اس کے اوپر سارا لگا دیا جائے تو بہت اعلیٰ کام ہو جائے گا۔یہ تو ٹھیک ہے کہ اس سے کچھ حد تک مدد تو مل جائے گی۔یہ اتنی چھوٹی موٹی تو بتا ہی نہیں ہے۔بحالی کے لئے تو بڑا خرچ چاہئے۔اب مثلاً فطرانہ ہی لے لیں۔ان کی بات سے میں نے اندازہ لگایا ہے کہ پاکستان کی کل آبادی تقریباً15 کروڑ ہے اور میں روپے کہتے ہیں فطرانہ فی کس مقرر ہے کہ اس سے بڑے پیسے جمع ہو جائیں گے۔اوّل تو وہاں پر ہر شہری فطرانہ دیتا ہی نہیں۔بہت سے غریب لوگ ہیں جو اس قابل ہی نہیں کہ دے سکیں۔اور پھر نظام بھی ایسا ہے کہ پورا اکٹھا بھی نہیں کیا جاتا۔اگر فرض کر لیا جائے کہ تمام فطرانہ دے دیں گے تو پھر بھی 4 ارب پچاس کروڑ روپے ہی رقم بنتی ہے۔جبکہ ہمارے اندازے کے مطابق دو ماہ کا راشن اور ٹینٹ اور گرم کپڑے وغیرہ اگر ایک خاندان کو مہیا کئے جائیں تو 16 ہزار روپے فی خاندان کا خرچ ہے۔پہلے تو کہہ رہے تھے کہ 40لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔اب کہتے ہیں 50 لاکھ۔ابھی کسی کو اندازہ نہیں ہے۔موتیں بھی بے تحاشہ ہیں بہر حال اگر یہ تعداد لی جائے تو اس کا مطلب ہے کہ کم از کم آٹھ لاکھ خاندان متاثر ہوا ہے۔اس حساب سے تقریباً دو ماہ کے لئے اگر ان کو کھانا پینا دینا ہواور ٹینٹ مہیا کرنے ہوں تو تقریباً 13 ارب روپے چاہئے۔13 ارب روپے کا مطلب ہے 130 ملین پونڈ اگر