خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 532
خطبات مسرور جلد سوم 532 خطبہ جمعہ 2 ستمبر 2005ء عام مزدور کی طرح اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے یہ کام کر رہے ہوتے ہیں۔پھر جلسے کے دنوں کی ڈیوٹیاں ہیں بعض بچے بچیاں چو میں چوبیس گھنٹے ڈیوٹی ادا کر رہے ہوتے ہیں اور بالکل بے نفس ہو کر کسی معاوضے کے بغیر کسی ذاتی مفاد کے بغیر یہ سب کام سرانجام دے رہے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔یہ روح اُن میں کس طرح پیدا ہوئی ؟ یقیناً اس میں یہ جذبہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت ہم نے کرنی ہے اور اُن دعاؤں کا وارث بننا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے مہمانوں کی خدمت کرنے والوں کے لئے کی ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا گزشتہ سو سال سے زائد عرصہ سے یہ جلسے منعقد کئے جا رہے ہیں اور گزشتہ سوسال سے زائد عرصہ سے ہی ہم ایسے کام کرنے والوں پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کا اثر دیکھتے چلے آ رہے ہیں۔پس یہ کام کرنے کی روح اور یہ ایمان میں مضبوطی ، یہ قربانی کے مادے، یہ سب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے طفیل ہی ہیں۔پھر جیسا کہ میں نے کہا ان کارکنوں کے علاوہ اور ان کارکنات کے علاوہ جو جلسہ گاہ کی تیاری، کھانے پکانے ، صفائی اور جلسہ کے بعد اس کو سمیٹنے وغیرہ کے کام میں شامل ہوتے ہیں۔جلسہ سننے والوں پر بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش برستی ہے۔ہم دیکھتے ہیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا صرف یہاں نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک میں جہاں ایم ٹی اے کے ذریعے یہ نظارے دیکھے گئے وہاں جس نے بھی جلسے کا ماحول بنایا، چاہے وہ گھروں میں ہو یا مساجد میں ہو، سب یہی لکھتے ہیں کہ ہم جلسے کی برکات کو اپنے اوپر نازل ہوتا دیکھ رہے تھے۔پس یہ فضل کام کرنے والوں پر بھی ہیں اور شامل ہونے والوں پر بھی ہیں چاہے وہ براہ راست شامل ہونے والے ہوں یا ایم ٹی اے کے ذریعہ سے شامل ہونے والے ہوں۔اور یہ صرف ان تین دنوں کے لئے نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی خواہش کے مطابق ان فضلوں کو سمیٹ کر ان کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہے۔اور یہ ہر احمدی جوان، بوڑھے، عورت، مرد، بچے کا فرض ہے تا کہ وہ دعائیں نسلاً بعد نسل ہمارے حصے میں آتی چلی جائیں۔اور