خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 514 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 514

خطبات مسرور جلد سوم 514 خطبہ جمعہ 26 اگست 2005 ء نبی کریم علی اللہ کی ذات کہ آپ کے ہر حکم پر قربان ہونے کے لیے صحابہ ہر وقت منتظر رہتے تھے۔ان صحابہ نے اپنی زندگی کا یہ مقصد بنالیا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات سے باہر نہیں نکلنا۔اور پھر آنحضرت علیل یا اللہ کے بعد آپ کے پہلے چار خلفاء جو خلفاء راشدین کہلاتے ہیں، ان کے توسط سے مسلمانوں نے اُس رتی کو پکڑا جو اللہ کی رسی اور اس کی طرف لے جانے والی رہتی تھی۔اور جب تک مسلمانوں نے اس رسی کو پکڑے رکھا وہ صحیح راستے پر چلتے رہے۔اور جب فتنہ پردازوں نے ان میں پھوٹ ڈال دی اور انہوں نے فتنہ پردازوں کی باتوں میں آکرا س رہستی کو کاٹنے کی کوشش کی تو ان کی طاقت جاتی رہی۔مسلمانوں کو وقتاً فوقتاً مختلف جگہوں میں اس کے بعد کامیابیاں تو ملتی رہیں لیکن اجتماعی قوت اور رعب جو تھا وہ جاتا رہا۔وہ قوت جو تھی وہ پارہ پارہ ہو گئی۔آپس میں بھی لڑائیاں ہوئیں۔ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے ہاتھوں قتل ہوا۔اور یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا انکار کیا تھا۔یہاں یورپ میں بھی دیکھیں مسلمان آئے ، سپین کو فتح کیا اور اس کو چند سو سالوں کے بعد گنوا بھی دیا۔اور آج بھی مسلمانوں کی جو یہ ابتر حالت ہے، نا گفتہ بہ حالت ہے، آج بعض مسلمان ممالک جو تیل کی دولت سے مالا مال ہیں لیکن اس کے باوجود غیروں کے دست نگر ہیں، اس کی یہی وجہ ہے کہ اللہ کی رسی کی انہوں نے قدر نہیں کی اور اپنے ذاتی مفادات اللہ اور رسول کی محبت پر غالب کر لئے۔ذاتی مفادات نے بھائی کی بھائی سے پہچان مٹادی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج یہ سب طاقت کھوئی گئی۔لیکن کیونکہ اللہ تعالیٰ جس نے آنحضرت عبیل یا اللہ کو آخری شرعی نبی بنا کر دنیا میں بھیجا تھا۔اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق آپ کی شریعت نے رہتی دنیا تک نہ صرف قائم رہنا تھا بلکہ پھیلنا تھا۔اپنے وعدے کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ان عملوں کی وجہ سے اس دین کو صفحہ ہستی سے مٹا تو نہیں دینا تھا۔مسلمانوں کے بگڑنے کی وجہ سے اور ناشکری کی وجہ سے جو ایسی حرکتوں کے منطقی نتائج نکلتے ہیں اور نکلنے چاہئیں وہ تو نکلے۔لیکن اللہ تعالیٰ کا آنحضرت علی اللہ عليه وسلم سے یہ بھی وعدہ تھا کہ آخرین میں سے تیری امت میں سے تیری لائی ہوئی شریعت کو دوبارہ قائم