خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 41 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 41

خطبات مسرور جلد سوم 41 خطبہ جمعہ 28 جنوری 2005ء آپ فرماتے ہیں: ”میں بڑے دعوے اور استقلال سے کہتا ہوں کہ میں سچ پر ہوں اور خدائے تعالیٰ کے فضل سے اس میدان میں میری ہی فتح ہے۔اور جہاں تک میں دور بین نظر سے کام لیتا ہوں، تمام دنیا اپنی سچائی کے تحت اقدام دیکھتا ہوں۔اور قریب ہے کہ میں ایک عظیم الشان فتح پاؤں کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لئے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر میں دیکھ رہا ہوں۔میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے۔اور آسمان پر ایک جوش اور ابال پیدا ہوا ہے جس نے ایک پتیلی کی طرح اس مشتِ خاک کو کھڑا کر دیا ہے۔ہر یک وہ شخص جس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں عنقریب دیکھ لے گا کہ میں اپنی طرف سے نہیں ہوں۔کیا وہ آنکھیں بینا ہیں جو صادق کو شناخت نہیں کر سکتیں؟ کیا وہ بھی زندہ ہے جس کو اس آسمانی صدا کا احساس نہیں ؟“ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد 3 صفحه 403) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فتح تو مقدر ہے۔آپ کی تعلیم نے تو دنیا میں پھیلنا ہے۔لیکن ہر احمدی کا بھی یہ فرض ہے کہ اس پیغام کو پہنچانے کے لئے کوشش میں لگ جائے۔افریقن ممالک میں خاص طور پر جس طرح پہلے کوشش ہوتی رہی ہے اب پھر وہی کوشش کریں۔جیسے پہلے منظم ہو کر احمدیت کا پیغام پہنچایا تھا، اب پھر اس طرف توجہ دیں۔پہلے تربیت میں جو کمی رہ گئی تھی ان کمیوں کو بھی دور کرنے کی کوشش کریں اور جلد سے جلد اپنے ملک کے تمام نیک فطرت شہر یوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا غلام بنادیں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ آسمان پر ایک جوش اور ابال پیدا ہوا ہے۔آسمانی تائیدات لوگوں کے دلوں پر بھی اتر رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ مختلف ذریعے سے تنبیہ بھی کر رہا ہے، اس کے نظارے بھی ہم ہر جگہ دیکھ رہے ہیں۔اس کے نظارے طوفانوں اور زلزلوں کی صورت میں نظر آ رہے ہیں۔ایک خدا کو بھلانے کی وجہ سے انسان انسان کے خلاف جو ظالمانہ حربے استعمال کر رہا ہے وہ اس لئے نظر آ رہے ہیں۔ایک ہی ملک کے شہری ظالمانہ طریق پر ایک دوسرے کا قتل عام کر رہے ہیں، وہ اسی وجہ سے ہے۔حیرت کی بات ہے کہ مسلمان کہلانے والے بھی یہی کچھ کر رہے ہیں۔