خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 448
خطبات مسرور جلد سوم 448 خطبہ جمعہ 29 جولائی 2005 ء آخر جب کچھ دیر کے بعد وہ لوگ بھی چلے گئے تو پھر آپ واپس اپنی جگہ پر آ گئے۔کئی کام ہوتے ہیں اور آنحضرت علی ملالہ کو تو اور بھی اپنی مصروفیات تھیں۔ان کے لئے خاص طور پر اس لئے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ خیال رکھا کرو اور بیٹھے باتیں نہ کرتے رہا کرو۔اور نبی کریم صلی اللہ کے لئے تکلیف کا باعث نہ بنو۔پھر یہ حکم جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے بارے میں ہیں وہاں بعض دوسرے حکموں سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا ایک عمومی رنگ بھی ہے۔بعض دفعہ گھر والوں نے رات کو دعوت کے بعد برتن سمیٹنے ہوتے ہیں، کام سمیٹنا ہوتا ہے۔لیکن اگر لوگ بیٹھے رہیں تو بلا وجہ کی پریشانی ہوتی ہے۔تو اس لئے یہ جو حکم ہیں، یہ عمومی رنگ بھی رکھتے ہیں اور مسلمان معاشرے کے لئے ، احمدی معاشرے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان پر عمل کیا جائے۔ضمنا ذکر کر دوں کہ یہاں مثلاً بیت الفتوح میں، اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی وسیع جگہ ہے بڑے بڑے ہال ہیں، لوگ اپنی شادیوں کے فنکشنز کے لئے لے لیتے ہیں۔ٹھیک ہے جماعت کے لوگوں کو ایک اچھی جگہ میسر ہے، بے شک استعمال کریں۔لیکن اتناذہن میں رکھیں کہ یہ تمام کام جو وہاں ہو رہا ہوتا ہے ، اس سارے کام کو سمیٹنے والے سب والنٹیئر ز ہوتے ہیں۔کوئی پیڈ (Paid) طبقہ ان کاموں کے لئے جماعت نے نہیں رکھا ہوا۔والنٹیئر ز نے عموماً شادی کے فنکشن کے بعد کام سمیٹنے ہوتے ہیں۔لیکن بعض دفعہ فنکشن ختم ہو جاتا ہے اور لوگ گھنٹوں بعد بھی ، رونق لگائے رہتے ہیں، بیٹھے تصویریں کھنچواتے رہتے ہیں۔اور والنٹیئر ز بے چارے بعض دفعہ رات کو ایک دو بجے گھروں کو پہنچتے ہیں۔تو ان ہالوں کو استعمال کرنے والوں کو ان والنٹیئر ز کا ، ان خدمت کرنے والوں کا بھی خیال کرنا چاہئے کہ انہوں نے بھی اپنے گھروں کو جانا ہوتا ہے۔ٹھیک ہے آپ مہمان ہوتے ہیں اور وہ بے چارے کچھ کہ نہیں سکتے۔لیکن بعض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو بعض دفعہ وقت پر اپنا فنکشن ختم کر جاتے ہیں۔اور جب یہ والٹیئر ز وقت پر ختم کرنے والوں کا شکر یہ ادا کرتے ہیں تو اس سے صاف پتہ لگ رہا ہوتا ہے کہ بعض لوگ ان سے کافی زیادتی کر جاتے ہیں۔تو یہاں رہنے والوں کو میں کہہ رہا ہوں، ہمیں بھی، جو بعض موقعوں پر مہمان بنتے ہیں ان باتوں کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔