خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 397 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 397

خطبات مسرور جلد سوم 397 خطبہ جمعہ یکم جولائی 2005ء تقویٰ پر چلتے ہوئے جماعت کا فعال حصہ بننے کی توفیق دے۔ہم اس مقصد کو پورا کرنے والے ہوں جس کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تھا۔وہ پاک تبدیلیاں اپنے اندر پیدا کریں جس کی آپ نے ہم سے توقع کی ہے۔اپنے نیک نمونے قائم کرنے والے ہوں تا کہ ان نیک نمونوں کی وجہ سے غیر بھی ہماری طرف توجہ کریں۔اور اس ذریعہ سے ہمیں تمام دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانے کی توفیق ملے۔پس اس کے لئے ہمیں اپنے ایمانوں کو بھی کامل کرنا ہو گا اگر کہیں سوچوں میں ٹیڑھ ہے تو اس کو بھی دور کرنا ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جب انسان مومن کامل بنتا ہے تو وہ اس کے اور اس کے غیر میں فرق رکھ دیتا ہے۔اس لئے پہلے مومن بنو۔اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ بیعت کی خالص اغراض کے ساتھ جو خدا ترسی اور تقویٰ پر مبنی ہیں دنیا کے اغراض کو ہرگز نہ ملاؤ۔نمازوں کی پابندی کرو اور توبہ واستغفار میں مصروف رہو۔نوع انسان کے حقوق کی حفاظت کرو اور کسی کو دیکھ نہ دو۔راستبازی اور پاکیزگی میں ترقی کرو تو اللہ تعالیٰ ہر قسم کا فضل کر دے گا “۔(ملفوظات جلد 3 صفحه 434 جدید ایڈیشن ـ الحکم مورخه 17/ اکتوبر 1903صفحه 2) تو یہ توقعات ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہم سے۔دنیا کی خاطر جو ایک دوسرے پر ظلم ہورہے ہیں ان سے بچیں۔راستبازی اور پاکیزگی میں ترقی اللہ تعالیٰ تک پہنچانے کا ذریعہ ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے کا ذریعہ ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ کے فضل سمیٹنے والے ہوں گے تو اس کے فضلوں میں سے ایک بہت بڑا فضل اور انعام جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے اندر خلافت کی صورت میں جاری فرمایا ہے اس سے بھی حصہ پانے والے ہوں گے۔اور اگر دعوے تو خلافت احمدیہ کو قائم رکھنے کے لئے ہر قربانی کے ہوں اور عمل یہ کہ کسی طرح خلیفہ وقت کو باتوں ہی باتوں میں دھوکا دیا جائے۔تو پھر اللہ تعالیٰ بھی اپنا قانون استعمال کرتا ہے۔اور ظالم اپنے ظلموں کی وجہ سے دنیا داروں سے تو بیچ سکتا ہے، اللہ تعالیٰ کی مخلوق جس کا علم محدود ہے اس سے تو بیچ سکتا ہے، لیکن خدا تعالیٰ سے نہیں۔پس ہر ایک کو اپنا اس لحاظ سے بھی جائزہ لیتے رہنا چاہئے۔