خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 361
خطبات مسرور جلد سوم 361 خطبہ جمعہ 17 / جون 2005ء حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔قرآن شریف میں تمام احکام کی نسبت تقویٰ اور پرہیز گاری کے لئے بڑی تاکید ہے۔وجہ یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک بدی سے بچنے کے لئے قوت بخشتی ہے۔اور ہر ایک نیکی کی طرف دوڑنے کے لئے حرکت دیتی ہے۔اور اس قدر تا کید فرمانے میں بھید یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک باب میں انسان کے لئے سلامتی کا تعویذ ہے۔اور ہر ایک قسم کے فتنہ سے محفوظ رہنے کے لئے حصن حصین ہے۔ایک مضبوط قلعہ ہے ہر فتنے سے بچنے کے لئے۔) ایک متقی انسان بہت سے ایسے فضول اور خطر ناک جھگڑوں سے بچ سکتا ہے جن میں دوسرے لوگ گرفتار ہوکر بسا اوقات ہلاکت تک پہنچ جاتے ہیں“۔(ايام الصلح۔روحانی خزائن جلد نمبر 14 صفحه 342) تو یہ ہے ارشاد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ، کہ تقویٰ ہر ایک بدی سے بچنے کے لئے قوت بخشتی ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس سے محبت کا معیار اس قدر ہوگا کہ ذراسی بھی جو بات اس کے احکامات کے خلاف ہے وہ دل میں خوف پیدا کر دے تو تبھی دل برائیوں کے خلاف سخت ہوتا جائے گا اور اس سے بیزاری کا اظہار ہوگا ، تقویٰ پر قدم مارنے کی توفیق ملے گی اور چھوٹی چھوٹی نیکیاں بجالانے کی طرف بھی توجہ پیدا ہوگی۔کسی کو نقصان پہنچانے کا، کسی کو نیچا دکھانے کا، کسی کے خلاف چغلی کرنے کا، جھوٹی افواہیں پھیلانے کا کبھی دل میں خیال نہیں آئے گا۔اس لئے آپ نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ : تقویٰ کے بہت سے اجزاء ہیں۔معجب ، خود پسندی ( یعنی تکبر ، اپنے آپ کو بڑا ظاہر کرنا ) مال حرام سے پر ہیز ( ان چیزوں سے پر ہیز، یہ تین چیزیں یعنی تکبر سے بچے ، خود پسندی سے بچے حرام کا مال کھانے سے بچے ) اور بداخلاقی سے بچنا بھی تقویٰ ہے۔“ (ملفوظات جلد اوّل صفحه 50 جدید ایڈیشن – رپورٹ جلسه سالانه 1897ء صفحه 83)