خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 203
خطبات مسرور جلد سوم 203 خطبہ جمعہ یکم اپریل 2005ء مکہ ہوئی۔عموماً فاتح قوم، فتح کے بعد جو مفتوح ہوتا ہے، ( جس کو فتح کیا جاتا ہے ) اس کے شہر اور ملک جو ہیں ان میں بڑے رعب اور دبدبے سے داخل ہوتے ہیں، فخر سے داخل ہوتے ہیں۔لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس موقعہ پر بھی شکر گزاری کے جذبات لئے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے۔روایت میں آتا ہے کہ فتح مکہ کے موقعہ پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذی طوی مقام پر پہنچے تو سرخ یمنی کپڑے کا عمامہ باندھے اپنی سواری پر ٹھہر گئے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح دے کر آپ کی کس قدر عزت افزائی فرمائی ہے تو حضور نے تواضع اور شکر گزاری سے اپنا سر اس قدر جھکایا کہ یوں لگتا تھا کہ آپ کی ریش مبارک سواری کے کجاوے سے چھو جائے گی۔(السيرة النبوية لابن هشام۔ذكر فتح مكة۔وصول النبي الى ذى طوئ) اتنا جھک گئے تھے کہ جس سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے اس کا جو آگے ابھار تھا اس پر جا کر آپ کی داڑھی لگ رہی تھی۔اس جیسی روایات میں بہت ساری ایسی مثالیں ملتی ہیں جو آپ کے عمل کے کئی کئی خُلق ظاہر ہورہے ہوتے ہیں۔پھر جب ہم دیکھتے ہیں کہ بندوں کے لئے آپ کی شکر گزاری کے جذبات کس قدر ہوتے تھے۔کسی سے فائدہ پہنچتا تھا تو اس کا کس قدر شکر ادا کیا کرتے تھے، ایسی عجیب عجیب مثالیں نظر آتی ہیں خوشی غمی کے موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ذرا سے بھی کام آنے والے کے جذبات کی بے انتہا قدر کیا کرتے تھے۔ان کا خیال رکھا کرتے تھے۔پھر اپنے ساتھ براہ راست تعلق والوں کا ہی نہیں (اپنے ساتھ جو واقعہ ہو اس سے نہیں ) بلکہ اپنے قریبی سے تعلق رکھنے والوں کیلئے بھی بے انتہا شکر گزاری کے جذبات رکھا کرتے تھے اور ان کا خیال رکھا کرتے تھے۔حضرت ابو بکر صدیق جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے پرانے ساتھیوں میں سے تھے، دوستوں میں سے تھے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہر خوشی و غمی میں ، تکلیف میں، رنج کے موقعہ پر ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا تھا۔ان کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے نازک احساسات رکھتے تھے کہ برداشت نہیں تھا کہ حضرت ابوبکر کے بارے میں کوئی ایسی بات رض