خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 202
خطبات مسرور جلد سوم 202 خطبہ جمعہ یکم اپریل 2005ء کیا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض تو نہیں کر لی۔آپ نے فرمایا مجھے جبریل نے یہ خوشخبری سنائی تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے حق میں فرماتا ہے کہ جو آپ پر درود بھیجے گا میں اس پر اپنی رحمتیں نازل کروں گا اور جو آپ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلامتی بھیجوں گا۔یہ سن کر میں اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجالایا ہوں۔(مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحه 191 مطبوعه بيروت ) اللہ تعالیٰ کا شکر اس لئے بجالا رہے ہیں ، اتنا لمبا سجدہ اس لئے کر رہے ہیں کہ ایک تو امت کو آپ کیلئے دعاؤں اور درود کی ترغیب دی جارہی ہے یہ کہہ کے کہ درود بھیجنے والے پر فضل ہوگا۔دوسرے اس وجہ سے سجدہ شکر بجالا رہے ہیں کہ اس درود کی وجہ سے امت کے بھی بخشش کے سامان پیدا ہورہے ہیں۔پھر اگر غیر قوموں میں بھی شکرانے کے طریق کو دیکھا تو اس پر بھی عمل کرنے کی کوشش فرمائی بلکہ عمل کیا تا کہ اللہ تعالیٰ کے شکر ادا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جائے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ایسے یہودیوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے یوم عاشورہ کے روز کا روزہ رکھا ہوا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا یہ کیسا روزہ ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ آج کے دن ہی اللہ نے موسیٰ اور بنی اسرائیل کو غرق ہونے سے بچایا تھا۔اور اس روز فرعون غرق ہوا تھا ، نوح کی کشتی جودی پہاڑ پر رکی تھی۔نوح علیہ السلام نے اور موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے شکرانے کے طور پر اس دن روزہ رکھا تھا۔اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں موسیٰ کے ساتھ تعلق کا سب سے زیادہ حقدار ہوں اور اسی وجہ سے اس دن روزہ رکھنے کا بھی میں زیادہ حقدار ہوں۔پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور اپنے صحابہ کو بھی عاشورہ کا روزہ رکھنے کا فرمایا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحه 359-360 مطبوعه بيروت) تو یہاں یہ سوال نہیں کہ دوسری قوموں یا مذہب والوں کا طریق ہے ، کیا ضرورت ہے کرنے کی۔بلکہ نیک کام اور شکرانے کے طور پر جو کام ہور ہا تھا اس طرف آپ کی توجہ پیدا ہوئی۔پھر اللہ تعالیٰ کے حضور ہمیں آپ کے شکر کا ایک اور عجیب نظارہ نظر آتا ہے۔جب فتح