خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 201 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 201

خطبات مسرور جلد سوم 201 خطبہ جمعہ یکم اپریل 2005 ء پڑھیں۔پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کیلئے ہلاکت ہو جو یہ آیات پڑھتا ہے مگران پر غور وفکر نہیں کرتا۔(تفسیر روح البیان زیر تفسير سورة آل عمران آیت نمبر 191-192) پھر دیکھیں ایک عجیب نظارہ جس سے امت کیلئے فکر اور بخشش کے جذبات کا بھی پتہ چلتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے شکر کا بھی۔حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ ہم آنحضرت علی کے ساتھ مکہ سے مدینہ واپس لوٹ رہے تھے جب ہم عَزوَراء مقام پر پہنچے تو آنحضور نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور کچھ دیر دعا کی۔پھر حضور سجدہ میں گر گئے۔اور بڑی دیر تک سجدہ میں رہے پھر کھڑے ہوئے اور ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔پھر سجدہ میں گر گئے۔آپ نے تین دفعہ ایسا کیا۔پھر آپ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی تھی اور اپنی امت کیلئے شفاعت کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ایک تہائی کی شفاعت کی اجازت دے دی۔میں اپنے رب کا شکرانہ بجالانے کیلئے سجدہ میں گر گیا اور سراٹھا کر پھر اپنے رب سے امت کیلئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے مزید ایک تہائی امت کی شفاعت کی اجازت فرمائی۔پھر میں شکرانہ کا سجدہ بجالایا۔پھر سر اٹھایا اور امت کیلئے اپنے رب سے دعا کی۔تب اللہ تعالیٰ نے میری امت کی تیسری تہائی کی بھی شفاعت کیلئے مجھے اجازت عطا فرما دی۔اور میں اپنے رب کے حضور سجدہ شکر بجالانے کیلئے گر گیا۔(ابوداؤد - كتاب الجهاد - باب في سجود الشكر ) | تو اس عبد شکور کے شکر کے جذبات کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفاعت کا حق عطا فر ما دیا۔پھر ایک روایت میں آپ کے شکر کے جذبات کے پہلو کا یوں پتہ چلتا ہے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے۔میں ان کے پیچھے گیا یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان میں پہنچ گئے۔وہاں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گر گئے اور بہت لمبا سجدہ کیا۔یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے شاید آپ کی روح قبض کرلی ہے۔میں آپ کو دیکھنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا تو آپ اٹھ بیٹھے اور فرمایا عبدالرحمن کیا بات ہے؟ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! آپ نے اتنا لمبا سجدہ