خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 196
خطبات مسرور جلد سوم 196 خطبہ جمعہ یکم اپریل 2005ء انبیاء میں پائے جاتے تھے۔یا آئندہ آنے والے میں پائے جائیں گے ان سب کی انتہا آپ کی ذات میں پوری ہوئی گویا کہ ان سب پر آپ نے اپنے نمونوں کی مہر لگا دی۔اور اب یہی نمونے ہیں جو رہتی دنیا تک قائم رہنے والے ہیں۔پس یہ سب سے بڑی سند ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا یہ خلق جو ہے شکر گزاری کا آج اس کے بارے میں کہوں گا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر گزار ہونے اور بندوں کا شکریہ ادا کرنے کے لئے کیا کیا طریق آپ نے اختیار کئے اس پر کچھ روشنی پڑتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت ، ہرلمحہ اس تلاش میں رہتے تھے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے۔کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے جس میں خدا تعالیٰ کے حضور شکر کے جذبات کے ساتھ دُعا نہ کی ہو۔آپ کی ہر وقت یہ کوشش رہتی تھی کہ سب سے بڑھ کر عبد شکور بہنیں اور اس کے لئے ہر وقت دعا مانگا کرتے تھے۔چنانچہ روایت میں آتا ہے، عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ "اللَّهُمَّ اجْعَلْنِى لَكَ شَاكِرًا لَكَ ذَاكِرا “ یعنی اے میرے اللہ تو مجھے اپنا شکر بجالانے والا اور بکثرت ذکر کر نے والا بنادے۔(ابوداؤد كتاب الوتر - باب ما يقول الرجل اذا سَلَّمَ) ایک اور روایت میں آتا ہے اس میں دعا کے ساتھ یہ زائد الفاظ آتے ہیں۔اپنے رب کے حضور یہ عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ مجھے ایسا بنا دے کہ میں تیرا سب سے زیادہ شکر کرنے والا ہوں اور تیری نصیحت کی پیروی کرنے والا ہوں اور تیری وصیت کو یاد کرنے والا ہوں۔(مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحه 311 مطبوعه بيروت) آئندہ جو آگے میں مثالیں پیش کروں گا ان سے پتہ لگے گا کہ آپ کس حد تک شکر گزاری کرتے تھے۔کس طرح ہر وقت ہر لمحہ اس تلاش میں رہتے تھے کہ شکر کے جذبات کا اظہار کریں۔لیکن اس کے باوجود یہ فکر ہے اور یہ دعا کر رہے ہیں کہ میں ہمیشہ شکر گزار بندہ بنوں ، شکر گزار رہنے والا بنوں۔آپ ہر بات خواہ وہ چھوٹی سے چھوٹی ہو لیکن جس سے آپ کی ذات کو فائدہ پہنچتا