خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 183
خطبات مسرور جلد سوم 183 خطبہ جمعہ 25 / مارچ 2005ء نے انہیں خیر و برکت کی دعا دی۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ مشورہ طلب کیا اور آپ دراصل انصار سے مشورہ مانگ رہے تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ زیادہ تھے اور دوسرا مشورہ طلب کرنے کا باعث یہ بھی تھا کہ انصار نے بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر یہ کہا تھا کہ یا رسول اللہ ! ہم اس وقت تک آپ کی حفاظت کی ذمہ داری سے بری ہیں جب تک کہ آپ ہمارے پاس نہیں آ جاتے۔جب آپ ہم میں آبسیں گے تو پھر آپ کی حفاظت کی ذمہ داری ہم پر ہوگی۔ہم آپ سے ہر دشمن کا دفاع کریں گے جس طرح ہم اپنے بچوں اور بیویوں کا کرتے ہیں۔تو حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں انصار کی نصرت یا مد دصرف مدینہ کے اندر رہ کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کا مقابلہ کرنے کی حد تک محدود نہ ہو۔اور یہ نہ ہو کہ کہیں دشمن سے مدینہ سے باہر نکل کر جنگ کرنے میں ساتھ نہ دیں۔جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورے کے لئے دوبارہ فرمایا تو سعد بن معاذ نے عرض کی کہ اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ! شاید آپ کا روئے سخن ہم انصار کی طرف ہے۔آپ شاید ہم سے کچھ پوچھنا چاہتے ہیں۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم درست سمجھے ہو۔اس پر حضرت سعد بن معاذ نے عرض کی۔ہم آپ پر ایمان لائے اور ہم نے آپ کی تصدیق کی اور ہم نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ آپ جو تعلیم لے کر آئے ہیں وہ برحق ہے اسی وجہ سے ہم نے آپ سے سننے اور اطاعت کرنے کا پختہ عہد کیا ہوا ہے۔یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنے ارادے کی تکمیل کے لئے چلیں۔ہم آپ کے ساتھ ہیں۔اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے اگر یہ سمندر بھی ہماری راہ میں حائل ہوا اور آپ نے اسے پار کر لیا تو ہم بھی آپ کی معیت میں اسے پار کریں گے۔ہم میں سے ایک شخص بھی پیچھے نہ رہے گا۔اور ہم اس بات کو نا پسند نہیں کرتے کہ آپ ہمارے دشمن سے مقابلہ کریں۔ہم جنگ کی صورت میں بہت صبر کرنے والے ہیں اور دشمن کے مقابلے میں آ کر اپنی بات کو سچ کر دکھانے والے ہیں۔شاید اللہ تعالیٰ آپ کو ہماری طرف سے وہ مقام عطا کرے جس سے آپ کی آنکھ ٹھنڈی ہو۔آپ اللہ تعالیٰ کی برکت کیسا تھ ہمیں ساتھ لیتے ہوئے چلیں۔حضرت سعد بن معاذ کا یہ کہنا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ رض