خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 150
خطبات مسرور جلد سوم 150 خطبہ جمعہ 11 / مارچ 2005ء کپڑے سے سایہ کیا جا رہا ہے۔آپ نے فرمایا رہنے دو۔کپڑا لے کر رکھ دیا اور فرمانے لگے میں بھی تمہاری طرح کا انسان ہوں۔(مجمع الزوائد للهيثمى كتاب علامات النبوة باب في تواضعه ) پھر ایک روایت میں ایک سفر کا حال یوں بیان ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ صحابہ کے ساتھ سفر پر تھے۔راستہ میں کھانا تیار کرنے کا وقت آیا تو ہر ایک نے اپنے اپنے ذمے کچھ کام لئے۔کسی نے بکری ذبح کرنے کا کام لیا تو کسی نے کھال اتارنے کا ، اور کسی نے اسے پکانے کی ذمہ داری لی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جنگل سے لکڑیاں اکٹھی کر کے لاؤں گا۔صحابہ نے عرض کیا حضور ! ہم کام کرنے کے لئے کافی ہیں۔آپ کیوں تکلیف کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا میں جانتا ہوں لیکن میں امتیاز پسند نہیں کرتا کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے کو نا پسند کرتا ہے جو اپنے ساتھیوں میں امتیازی شان کے ساتھ رہنا پسند کرتا ہو۔پھر باوجود اس کے کہ بعض کاموں کے لئے کارندے مقرر کئے ہوئے تھے لیکن آپ کے پاس وقت ہوتا تھا تو وہ کام خود بھی کر لیا کرتے تھے۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے۔عبداللہ بن طلحہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ مجھ سے انس بن مالک نے کہا کہ صبح کے وقت میں ابوطلحہ کے ساتھ اس کے نومولود بیٹے کو گھٹی دلوانے کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔میں نے دیکھا کہ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اونٹ داغنے کا آلہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم زکوۃ کے اونٹوں کو نشان لگا رہے تھے۔جو ز کوۃ میں بیت المال کے پاس اونٹ آئے تھے ان کو نشان لگا ر ہے تھے۔(بخاری کتاب الزكاة - باب وسم الامام ابل الصدقة) آپ اس انتظار میں نہیں رہے کہ بیت المال کے اونٹ ہیں جن لوگوں کے سپرد یہ کام کیا ہوا ہے وہ خود آ کر یہ کام کرلیں گے۔بلکہ جب دیکھا کہ وقت ہے تو ایک عام کارکن کی طرح خود ہی یہ کام سرانجام دینے لگے۔پھر گھر کے کام کاج بھی آپ ایک عام آدمی کی طرح کیا کرتے تھے۔پہلے بھی ذکر آپکا ہے اور یہی آپ فرماتے تھے کہ میں تو محض ایک انسان ہوں اور عام انسانوں کی طرح کھاتا پیتا