خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 84 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 84

خطبات مسرور جلد سوم 84 خطبہ جمعہ 11 فروری 2005ء وادی کے معزز سرداروں میں سے ہو، زبر دستی اس کو آگے لے گیا ، اور ایک دو دن تک تو ساتھ رہو پھر واپس آجانا۔چنانچہ وہ ساتھ ہولیا اور آخر و ہیں بدر میں مارا گیا۔(بخاری، کتاب المناقب باب علامات النبوة في الاسلام) تو یہ دیکھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر وہ دونوں میاں بیوی نہ صرف خوفزدہ ہو گئے تھے بلکہ یقین تھا کہ ایسا ہی ہوگا۔اور لاکھ بیچنے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے بدر کے میدان میں لے گئی۔پھر دیکھیں آپ کی سچائی کے رعب کی ایک اور مثال۔جنگ اُحد میں رسول اللہ علی زخمی ہونے کے بعد جب صحابہ کے ساتھ ایک گھاٹی میں ٹیک لگائے ہوئے تھے تو ابی بن خلف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر للکارتے ہوئے پکارا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اگر آج تم بچ گئے تو میں کامیاب نہ ہوا۔صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ ! کیا ہم میں سے کوئی اس کی طرف بڑھے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے چھوڑ دو۔جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نیزہ لیا اور آگے بڑھے اور اس کی گردن پر ایک ہی وار کیا۔جس سے وہ اپنے گھوڑے سے زمین پر لوٹنیاں کھاتے ہوئے گرا۔ابن اسحاق جن کی روایت سیرت ابن ہشام میں درج ہے بیان کرتے ہیں کہ مجھے صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف نے بتایا کہ ابی بن خلف، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مکہ میں ملتا تو کہتا محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک گھوڑا ہے جس کو میں خاص مقدار میں دانہ کھلا کر موٹا تازہ کر رہا ہوں۔اس پر سوار ہو کر میں آپ کو قتل کروں گا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے فرماتے کہ جس طرح تم کہتے ہو ویسا نہیں ہوگا بلکہ انشاء اللہ میں ہی تمہیں قتل کروں گا۔پس جب زخمی ہو کر قریش کے پاس واپس پلٹا تو اس کی گردن پر ایک معمولی زخم تھا جو اتنا بڑا نہیں تھا جس سے خون بہہ نکلا۔تھوڑا سا خون بہا تھا۔وہ کہتا جا رہا تھا کہ بخدا محمد نے مجھے مارڈالا۔اس کے ساتھیوں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ تم خوامخواہ دل چھوٹا کر رہے ہو، مایوس ہو رہے ہو۔معمولی سا زخم ہے۔اس نے کہا تم نہیں جانتے۔اس نے ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ) مکہ میں مجھے کہا تھا کہ میں تجھے قتل کروں