خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 2
خطبات مسرور جلد سوم 2 خطبہ جمعہ 7 / جنوری 2005ء طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔اس مضمون کو اگر کوئی سمجھ لے اور اس پر عمل کرنا شروع کر دے تو ایک عجیب روحانی تبدیلی بھی انسان کے اندر پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔آج سپین کی جماعت کا جلسہ سالانہ بھی اس خطبے سے شروع ہو رہا ہے اور جلسوں کا مقصد بھی افراد جماعت کے اندر روحانی تبدیلی کے معیار اونچے کرنا ہے۔اس لئے کوئی یہاں بیٹھا ہوا یہ نہ سمجھے کہ وقف جدید کے اعلان کی وجہ سے ہمارا جلسے کا مضمون متاثر ہو گیا۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے مضمون کو اللہ تعالیٰ نے عبادت کے ساتھ ، نمازوں کے ساتھ رکھا ہے۔اور یہ جو آیت میں نے تلاوت کی ہے، اس کے علاوہ بھی متعدد جگہ اللہ کی راہ میں مال اور نعمتوں کو خرچ کرنے کا ذکر سورۃ بقرہ میں ملتا ہے۔تو یقیناً یہ ایک اہم عصر ہے دین کا ، جو تقوی و روحانیت میں ترقی کا باعث بنتا ہے۔اس آیت میں جس کی میں نے تلاوت کی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اور ان لوگوں کی مثال جو اپنے اموال اللہ کی رضا چاہتے ہوئے اور اپنے نفوس میں سے بعض کو ثبات دینے کے لئے خرچ کرتے ہیں ایسے باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو اور اسے تیز بارش پہنچے تو وہ بڑھ چڑھ کر اپنا پھل لائے اور اگر اسے تیز بارش نہ پہنچے تو شبنم ہی بہت ہو، اور اللہ اس پر جو تم کرتے ہو گہری نظر رکھنے والا ہے۔یعنی جو لوگ چندہ دینے والے ہیں، صدقہ دینے والے ہیں ان کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنا ہے۔اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے اور اس کی مخلوق کی خاطر جو کچھ بھی خرچ کرو گے وہ یقینا اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا باعث بنے گا۔اس سے دین کو بھی مضبوطی حاصل ہو گی اور تمہارے دینی بھائیوں کو بھی مضبوطی حاصل ہوگی۔پھر ایسے لوگوں کی مثال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس سرسبز باغ کی طرح ہیں جو اونچی جگہ پر واقع ہو جہاں انہیں تیز بارش یا پانی کی زیادتی بھی فائدہ دیتی ہے۔نچلی زمینوں کی طرح اس طرح نہیں ہوتا کہ بارشوں میں فصلیں ڈوب جائیں یا باغ ڈوب جائیں۔یہ خراب نہیں ہو جاتے بلکہ وہ ایسے سیلابوں سے محفوظ