خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 78
خطبات مسرور جلد سوم 78 خطبہ جمعہ 11 فروری 2005ء ان کے گھر یلو حالات و معاملات میں گواہی دے سکتی ہیں، انہیں کی گواہی وزن رکھنے والی گواہی ہے جو مل سکتی ہے۔تو اس بارے میں بھی ایک روایت میں بیان ہے۔ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی کے نزول کا ذکر کرتے ہوئے (تفصیلی روایت ہے ) بیان کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے وحی کے وقت اپنی پریشانی کا ذکر کیا۔تو انہوں نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے کہا: كَلَّا أَبْشِرْ فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيْكَ اللهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَ تَصْدُقُ الْحَدِيثَ، یعنی ویسے نہیں جیسے آپ سوچ رہے ہیں، آپ کو مبارک ہو۔اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔آپ صلہ رحمی کرتے ہیں اور راست گوئی اور سچائی سے کام لیتے ہیں۔(بخاری-کتاب التعبير - باب اول ما بدئ به رسول الله من الوحى الرؤيا الصالحة) پھر دیکھیں دوست کی گواہی۔وہ دوست جو بچپن سے ساتھ کھیلا ، پلا ، بڑھا ، یعنی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔اس دوست نے ہمیشہ ہر حالت میں آپ کو سچ کہتے اور سچ کی تلقین کرتے ہی دیکھا اور سنا تھا۔اس لئے ان کے ذہن میں کبھی یہ تصور آ ہی نہیں سکتا تھا کہ کبھی یہ شخص جھوٹ بھی بول سکتا ہے۔چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابو بکر نے جب آپ کے دعویٰ کے بارے میں سنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار کے باوجود کوئی دلیل نہیں چاہی۔کیونکہ ان کا زندگی بھر کا یہی مشاہدہ تھا کہ آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔آپ نے آنحضرت ﷺ سے صرف یہی پوچھا کہ کیا آپ نے دعوی کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت کرنی چاہی تو ہر بار یہی عرض کی کہ مجھے صرف ہاں یا نہ میں بتا دیں۔اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کہنے پر عرض کیا کہ میرے سامنے تو آپ کی ساری سابقہ زندگی پڑی ہوئی ہے۔میں کس طرح کہہ سکتا ہوں کہ بندوں سے تو سچ بولنے والا ہو اور اس کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والا ہو اور خدا پر جھوٹ بولے۔(دلائل النبوة للبيهقى جماع ابواب المبعث باب من تقدم اسلامه۔الصحابة۔۔۔۔۔۔من اب کوئی کہہ سکتا ہے کہ گھر والوں کی یا ملازمین کی یا دوستوں کی گواہی تو ایسی ہے کہ اگر