خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 826 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 826

۶۷ اسماء صفحه اسماء محمد مصطفیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو انکساری سے آپ کا سر جھکتے جھکتے اخلاق - إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيم۔108 اونٹ کے کجاوے سے جالگا۔۔آپ تَخَلَّقُوْا بِاخْلَاقِ الله“ کا ہیں۔حجتہ الوداع کے موقع پر آپ کی کمال کامل نمونہ اور کامل انسان ہیں۔امانت و دیانت۔آپ کو جوانی میں ”مین کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔۔مکہ سے ہجرت کے وقت آپ نے حضرت علی کو امانتیں واپس کرنے کی ذمہ داری سونپی۔509 76 421 عاجزانہ دعائیں۔۔میں نسل آدم کا سردار ہوں لیکن یہ کوئی فخر کی بات نہیں۔صفحہ 156 157 480 جود وسخا۔” إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَيُعْطِى اللهُ » 161 حضرت انسؓ کا بیان۔"كَانَ النبي الله اَحْسَنَ النَّاسِ۔آپ کی سخاوت رمضان کے مہینے یا۔اس شخص سے بھی خیانت نہ کر جو تجھ وَاجْوَدَ النَّاسِ سے خیانت کرتا ہے۔422 || انکساری۔ایک شخص کا آپ کے سامنے میں اپنے انتہائی عروج پر پہنچ جاتی تھی۔162 کانپنا اور آپ کا فرمانا۔میں تو ایک بڑھیا کا فرزند ہوں۔۔ایک غریب فائر العقل عورت سے عاجزی سے پیش آئے۔491 152۔غزوہ حنین کے دن آپ نے صفوان کو تین سو اونٹ دیئے۔سادگی۔وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنِ۔167 166۔بوقت ہجرت آپ اس قدر سادگی اور۔ایک نابینا شخص کی دلجوئی کے لئے اس عاجزی کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ سب لوگ ابوبکر کو رسول اللہ سمجھنے لگے۔477 481 کے گھر گئے اور اپنی چادر مبارک بچھا کر بٹھایا 153۔سفر میں پڑاؤ کیا اور آپ نے لکڑیاں حضرت عمر کو آپ کا دعا کے لئے فرمانا 154 لَا تُخَيَّرُوْنِيْ عَلَى مُوسَى مُجھے موسی“ پر فضیلت نہ دو۔ہے۔ہاں میں بھی اپنے اعمال کی وجہ سے 155 جمع کرنا اپنے ذمہ کام لیا۔۔جنگ احزاب میں خندق کھودنے P 482 کے دوران آپ مٹی ڈھوتے تھے۔483۔آپ نے اپنی لاڈلی بیٹی فاطمہ کو نجات نہیں پاؤں گا۔جہیز میں ایک چکی، مشکیزہ اور گدیلا دیکر۔دس ہزار قدوسیوں کے جلو میں سادگی کی اعلیٰ ترین مثال قائم کی۔فاتحانہ شان سے مکہ میں داخل ہوئے 484