خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 75 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 75

خطبات مسرور جلد سوم 75 خطبہ جمعہ 11 فروری 2005ء ہے۔آج بھی جو لوگ قرآن کو نہیں مانتے ان میں سے بعض ایسے ہیں جن کا کام اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کے سوا کچھ نہیں ہے۔وہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ قرآن میں سے تم دکھا رہے ہو اور ہم لوگ تو اس کو مانتے نہیں کہ یہ الہامی کتاب ہے۔تم نے کہانی بنا کر خود ہی اس کے بارے میں گواہی دے دی۔تو ایسے لوگوں کو کم از کم حقائق اور واقعات سے ہی سچائی کو پرکھ لینا چاہئے۔یہ جو آپ نے اتنا لمبا عرصہ کفار میں گزارا اور یہ جو اتنا بڑا دعویٰ کفار کے سامنے رکھا کہ تمہارے سامنے میری زندگی ہے اس پر غور کرو۔اس پر کبھی کفار مکہ نے انگلی نہیں اٹھائی کہ تم جھوٹ بول رہے ہو، فلاں فلاں موقع پر جھوٹ نہیں بولا تھا؟ یاد کرایا جائے۔ایک بھی مثال ایسی نہیں ملتی کہ کفار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس استدلال پر اس دلیل کو رڈ کیا ہو، کوئی اس پر اعتراض کیا ہو۔اس کے برعکس آپ کو صدوق کہا جاتا تھا۔اس کی مثالیں ہیں۔یعنی جھوٹ بولنا تو ایک طرف رہا، صداقت کا ایسا اعلیٰ نمونہ تھے جس کی مثال نہیں ملتی۔ایسے واقعات کی بعض مثالیں میں پیش کرتا ہوں لیکن اس سے پہلے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ: ”انبیاء وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنی کامل راستبازی کی قوی حجت پیش کر کے اپنے دشمنوں کو بھی الزام دیا جیسا کہ یہ الزام قرآن شریف میں ہے حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے موجود ہے جہاں فرمایا ہے فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ - أَفَلَا تَعْقِلُونَ ﴾ (سورة يونس الجزو 11 آيت نمبر (17) یعنی میں ایسا نہیں کہ جھوٹ بولوں اور افتراء کروں۔دیکھو میں چالیس برس اس سے پہلے تم میں ہی رہتا رہا ہوں کیا کبھی تم نے میرا کوئی جھوٹ یا افتراء ثابت کیا؟ پھر کیا تم کو اتی سمجھ نہیں یعنی یہ سمجھ کہ جس نے کبھی آج تک کسی قسم کا جھوٹ نہیں بولا وہ اب خدا پر کیوں جھوٹ بولنے لگا۔غرض انبیاء کے واقعات عمری اور ان کی سلامت روشی ایسی بدیہی اور ثابت ہے ( یعنی واضح اور ثابت شدہ ہے کہ اگر سب باتوں کو چھوڑ کر ان کے واقعات کو ہی دیکھا جائے تو ان کی صداقت ان کے واقعات سے ہی روشن ہو رہی ہے۔مثلاً اگر کوئی منصف اور عاقل ان تمام براہین اور دلائل صدق نبوت حضرت خاتم الانبیاء صلی