خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 808
۴۹ اسماء صفحه ابو حمزہ رضی اللہ عنہ (انس بن مالک) کو دعوت دی۔اسماء ا۔آپ نے ثابت کی بیماری پر یہ دم ابوصفوان (امیہ بن خلف) پڑھا۔اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْهِبَ۔آپ کے متعلق آنحضور نے الْبَأْس إِشْفِ أَنْتَ الشَّافِي۔لَا شَافِيَ سے قتل کی خبر دے دی تھی۔إِلَّا أَنْتَ شِفَاءٌ لَا يُغَادِرُ سَقَمًا ابوذر رضی اللہ عنہ 240 ابوطالب۔حضرت ( چچا آنحضور)۔صفحہ 455 454 حضرت رسول کریم علیہ حضرت۔آپ کو مخاطب کر کے حضور نے فرمایا۔ابو طالب کے ساتھ سفر شام کے دوران اگر میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر بھی سونا بحیرہ راہب سے ملے تو آپ نے بتوں آ جائے تو میں اسے خدا کی راہ میں خرچ سے بیزاری کا اظہار کیا۔173 اے میرے چا! اگر یہ لوگ میرے 83 59 59 کردوں۔“ ابورافع ( کفار مکہ کا سفیر ) ابورافع بن عمرو 426 دائیں ہاتھ میں سورج اور بائیں طرف چاند بھی لا کر رکھ دیں تب بھی 66 میں اس کام کو نہیں چھوڑ سکتا۔“ 61۔آنحضور نے آپ کے چا کو یہ دعا۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا۔" یہ دی۔کہ اے میرے اللہ ! اس کا پیٹ بھر سب مضمون ابو طالب کے قصہ کا اگر چہ 500 کتابوں میں درج ہے مگر یہ تمام عبارت دے۔66 ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ابوسفیان بن حرب 121'115 الہامی ہے جو خدا تعالیٰ نے اس عاجز کے دل پر نازل کی۔صرف کوئی کوئی فقرہ تشریح کے لئے اس عاجز کی طرف سے ہے۔62۔دربار قیصر روم ہرقل میں آپ سے۔آنحضور نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر سوالات پوچھے گئے۔ابو سلمہ بن عبد الرحمن۔آپ نے آنحضور اور دوسرے صحابہ 80 602 حضرت ابوطالب کو بتایا کہ کفار کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا اور خانہ کعبہ میں لٹکایا گیا تھا اس میں سوائے اللہ کے لفظ کے باقی سارے معاہدے کو دیمک کھا گئی ہے۔88 82