خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 72
خطبات مسرور جلد سوم 72 خطبہ جمعہ 14 فروری 2005ء تھا لیکن کہتے ہیں میں نے ان کو روتے بھی دیکھا کہ جب یہ ذکر ہوتا تھا کہ بیعتوں کا ٹارگٹ پورا کرنا ہے، بیعتیں نہیں ہوئیں۔یا وہ ٹارگٹ حاصل نہیں ہوا جتنا ان کا خیال تھا کہ ہونا چاہئے اور مجھے رپورٹ بھجوانی ہے۔اس وقت وہ رویا کرتے تھے کہ کس طرح اپنی ایسی رپورٹ بھجواؤں۔اور دعا کے لئے درخواست کیا کرتے تھے۔اور حقیقتاً انہوں نے حق ادا کیا ہے۔وہ ان لوگوں میں شامل ہیں جو امانتوں کا بھی حق ادا کرتے ہیں اور اپنے عہدوں کا بھی حق ادا کرتے ہیں اور اس لحاظ سے میدان عمل میں ان کی وفات ایک شہید کی موت ہی ہے، جو کبھی مرا نہیں کرتے۔اس وقت بھی بیماری سے چند گھنٹے پہلے، آخری رات ، وہ کہتے ہیں کہ سارے مربیان ،مبلغین بیٹھے ہوئے تھے، تبلیغ کرنے کا کوئی پروگرام بن رہا تھا تو اس میں بھی پوری طرح بڑھ بڑھ کے حصہ لے رہے تھے، تجاویز پیش کر رہے تھے۔تو دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کو اپنی مغفرت کی چادر میں لیٹے۔ان کو اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے اور ان کی ایک چھوٹی بچی اور اہلیہ کو صبر دے۔ان کے والدین زندہ ہیں ان کو صبر کی توفیق دے۔اسی طرح ہمارے ایک بڑے پرانے ، لندن میں جب سے خلیفہ وقت آئے ہیں اس وقت سے یہاں کی تاریخ میں پیر محمد عالم صاحب کا بھی نام کافی جانا جاتا ہے۔ان کی بھی کل وفات ہوگی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ کی پیدائش 1919 ء کی تھی اور 1979ء میں انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر میں رہے۔پھر یہاں آگئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے خوب خدمت کی توفیق پائی۔کیونکہ قریب رہتے تھے، صبح سب سے پہلے آنے والوں میں سے تھے اور جس طرح ان کی عادت تھی، اگر دور بھی ہوتے تو یقیناً وہ سب سے پہلے دفتر آنے والوں میں شمار ہوتے۔اور بڑی محنت سے کام کرتے رہے اور پھر جب تک ان کی صحت اجازت دیتی رہی پورا وقت لگاتے تھے اور اس کے بعد بھی اب تک، چند دن پہلے تک انہوں نے دفتر میں اپنے پورے کام کو نبھایا ہے۔اور انگریزی سیکشن کی ڈاک کا کام کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے بھی درجات بلند فرمائے ، مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان کی اہلیہ اور بچوں کو صبر کی توفیق دے۔