خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 71
خطبات مسرور جلد سوم 71 خطبہ جمعہ 14 فروری 2005ء ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے آقا و مطاع صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں خدائے واحد کی عبادت اور اس کے نام کی غیرت کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں تبھی ہم حقیقت میں لَا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کا کلمہ پڑھنے والے کہلا سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ ثانیہ میں بورکینا فاسو کے مربی سلسلہ مکرم شکیل احمد صدیقی صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ) یہ دو افسوسناک اعلان ہیں۔ایک تو یہ ہے کہ ہمارے ایک مبلغ جو بورکینا فاسو مغربی افریقہ میں مبلغ تھے۔مختصر سی بیماری کے بعد پرسوں بالکل نو جوانی کی حالت میں ان کی وفات ہو یہ جو ہمارے یہاں مبارک صدیقی صاحب ہیں ان کے چھوٹے بھائی تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ان کو اپنی مغفرت کی چادر میں لپیٹ لے۔وہ بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔ان میں بڑی ہی اطاعت کا جذبہ تھا۔بورکینا فاسو کے مربیان کی طرف سے جو افسوس کا ، تعزیت کا خط آیا ہے۔اس میں جو انہوں نے خوبیاں لکھی ہیں وہ حقیقت میں وہ تمام باتیں ہیں جن میں میں کہہ سکتا ہوں کوئی مبالغہ نہیں تھا۔بہت محنتی تھے ، بڑی غیرت رکھنے والے تھے، اللہ کے نام کی غیرت رکھنے والے تھے، بنی نوع انسان کی خدمت کرنے والے تھے اور بے نفس آدمی تھے۔ہر وقت مسکراتے رہتے تھے۔یہ لکھتے ہیں کہ جب بھی اجتماع وغیرہ یا جلسہ ہوتا تو شکیل صاحب اپنے کاموں میں اتنے مصروف ہوتے کہ نہانے دھونے کھانے وغیرہ کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی تھی۔اور جب میں دورے پر گیا ہوں میں نے دیکھا ہے کہ یہ مستقل خدمت پہ تھے، باقی بھی تھے لیکن ان کی اہلیہ ان دنوں میں بہت بیمار ہو گئیں اور ہسپتال میں داخل تھیں، اس کے باوجود جوان کے ذمے کام تھے وہ پوری طرح کرتے رہے۔ہسپتال بھی دوڑ کے جاتے تھے پھر آ کے کام کرتے تھے۔اور پھر دوسرے کو یہ احساس نہیں دلواتے تھے کہ مجھے مجبوریاں ہیں اور پھر بھی میرے سے کام کروایا جا رہا ہے بلکہ خوشی سے یہ کام کر رہے تھے باوجود یہ کہنے کے کہ آپ زیادہ اہلیہ کی فکر کریں۔کھانے پینے کی ان کو کوئی فکر نہیں ہوتی تھی اور ہر وقت ہنستے مسکراتے رہتے۔لیکن امیر صاحب نے ایک بات لکھی ہے اور یقینا صحیح ہوگی لوگوں کا یہ خیال ہے کہ وہ ہر وقت ہنسنے والا شخص