خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 751
خطبات مسرور جلد سوم 751 خطبہ جمعہ 30 دسمبر 2005ء پھر اس کے علاوہ بھی ہم نے اللہ تعالیٰ کی تائیدات کے نظارے دیکھے وہ بھی ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بنانے والے ہونے چاہئیں۔عموماً جماعت احمدیہ کا جہاں بھی جلسہ سالانہ ہوتا ہے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کی قبولیت کے طفیل ہم اللہ تعالیٰ کے فضل بارش کی طرح برستے دیکھتے ہیں، اور ہر جلسے کے بعد ایک نیا سنگ میل ، ایک نئی منزل ہمیں نظر آ رہی ہوتی ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بننے کی طرف توجہ دلا رہی ہوتی ہے۔اور اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس بستی میں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اتنا کامیاب جلسہ ہوا، جہاں پہلے جلسے میں صرف 75 افراد شامل تھے اور اس بستی کو چند لوگ جانتے تھے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کی قبولیت کے طفیل آج دیکھیں اس بستی میں جلسے کی حاضری 70 ہزار افراد کے قریب تھی اور دنیا کے کونے کونے میں قادیان دارالامان کی آواز پہنچ رہی تھی۔ہمارے سر اس انعام پر اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جانے چاہئیں۔ہمارے دل شکر کے جذبات سے لبریز ہونے چاہئیں تا کہ اللہ تعالیٰ مزید اپنے فضلوں کی بارش برسائے اور اپنے مزید انعامات سے ہمیں بہرہ ور فرمائے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں شکر گزاری کے کیا طریق بتائے ہیں۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اللہ ہی کی عبادت کر اور شکر گزاروں میں سے ہو جا۔یعنی شکر گزاری تبھی ہوگی جب تم اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے والے اور اس کی مکمل بندگی اختیار کرنے والے ہو گے اور یہی ایک مومن کی شان ہے اور اس سے ایک مومن مزید انعامات کا وارث بنتا ہے۔پس ہر احمدی کو چاہئے کہ اس نکتے کو سمجھے اور صرف یہ نہ ہو کہ نعرے لگا کر ہی ہماری شکر گزاری کا اظہار ہورہا ہو، جو ہم نے جلسے میں لگائے اور اس کے بعد ختم ہو گیا۔بلکہ حقیقی اظہار یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اس کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کریں ، نیک اعمال بجالا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ، لوگوں کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔حضرت سلیمان کی ایک دعا کو اللہ تعالیٰ نے پسند فرماتے ہوئے قرآن کریم میں بیان