خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 737 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 737

خطبات مسرور جلد سوم 737 خطبہ جمعہ 23 / دسمبر 2005ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُس نبی کے غلام ہیں جس نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے والے کو مہمان کی عزت اور تکریم کرنے کے لئے حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ تین دن تک اس کی مہمان نوازی کرو۔اس طرف خاص توجہ دلائی ہے۔اللہ اور یوم آخرت پر ایمان سے مہمان نوازی کو باندھا ہے۔تو اس حدیث میں یہ تین دن کی مہمان نوازی کی جو ہدایت ہے یہ تو مہمان کو احساس دلانے کے لئے ہے کہ میزبان پر بوجھ نہ پڑے۔لیکن اگر نظام جماعت کی طرف سے زائد عرصہ کی میزبانی ہو رہی ہے تو آپ لوگوں نے جو اپنے آپ کو خدمت کے لئے پیش کیا ہے تو آپ سب کو ، تمام کارکنوں کو اتنا عرصہ خوش دلی سے میز بانی کرنی چاہئے۔اور پھر آپ اس غلام صادق کے نمونے دیکھیں کس قدر خوبصورت ہیں کہ اندھیری راتوں میں لالٹین کی روشنی میں جا کر مہمان کو دودھ پلا رہے ہیں۔مہمان آتے ہیں تو خود ہی طشتری میں کھانا لگا کر مہمان کے لئے لا رہے ہیں اور کبھی کسی طرح اور کبھی کسی طرح مہمان کی مہمان نوازی کے اہتمام کر رہے ہیں۔آسام سے آئے ہوئے مہمانوں کے بارہ میں مشہور واقعہ ہے کہ وہ آئے اور کسی وجہ سے مہمان خانے کے عملے سے ناراض ہو کر چلے گئے۔تو جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پتہ لگا کہ مہمان ناراض ہو کر ٹانگے میں بیٹھ کر واپس روانہ ہو گئے ہیں تو کس طرح آپ ان کے پیچھے جلدی جلدی روانہ ہوئے۔اتنی جلدی میں کہ جوتی بھی چلتے چلتے پہنی۔اور جب راستے میں ان مہمانوں کو جالیا، ان کو راستے میں پکڑ لیا، ان کے پاس پہنچ گئے ، تو حضور علیہ السلام نے ان سے خود ہی لنگر خانے کے عملے کے رویے پر معذرت کی۔ان کو واپس چلنے کے لئے کہا۔پھر ان کو ٹانگے پر بٹھانے کی کوشش کی کہ میں پیدل چلتا ہوں آپ ٹانگے پر بیٹھ کر چلیں۔لیکن مہمان بھی شرمندہ تھے۔وہ ساتھ چلے اور واپس آئے ، آخر قادیان پہنچے۔حضور علیہ السلام نے خود ہی ٹانگے سے سامان اتارنے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔مہمان بھی شرمندہ ہیں روک رہے ہیں اور خود ہی سامان اتارنا چاہتے ہیں۔مہمان خانے کا عملہ بھی شرمندہ ہے فوراً سامان اتارنے کے لئے آگے بڑھا۔پھر آپ نے عملے کو نصیحت کی کہ مہمان دُور سے آئے ہیں ان کے