خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 736
خطبات مسرور جلد سوم 736 خطبہ جمعہ 23 / دسمبر 2005ء قادیان کے رہنے والوں کی ہے۔یہ باوجود مختلف قومیتوں کے ہونے کے کم و بیش ایک مزاج کے ہیں۔ان پر ماحول نے کچھ اثر ڈالا ہوا ہے۔ان میں جامعہ وغیرہ کے طلباء بھی ہیں ان پر بھی خاص ماحول کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ وہ واقف زندگی ہیں اور خدا کی رضا کے حصول کے لئے انہوں نے اپنی زندگیاں گزارنے کا عہد کیا ہے۔کچھ تربیت اور ٹریننگ کا اثر ہوتا ہے ان کے مزاج بدلتے ہیں۔اور ہر اس طالب علم کا جس نے اپنی زندگی وقف کی ہے بلکہ ہر واقف زندگی کا مزاج بدلنا چاہئے۔دوسرے کچھ کارکنان ہندوستان کے جنوب سے یا کشمیر سے آنے والے ہیں۔یہی مجھے زیادہ نظر آئے ہیں ، جب میں دو تین جگہ پر گیا ہوں۔ان کے رہن سہن میں ، معاشرے میں بہت فرق ہے۔اس لئے بعض دفعہ مزاجوں کے خلاف بات ہو جائے یا کسی وجہ سے غلط فہمی ہو جائے تو آپس میں رنجشیں پیدا ہو جاتی ہیں۔پھر جیسا کہ میں نے کہا باہر سے آنے والوں کی دوسری قسم خاص طور پر پاکستان سے آنے والے کارکنان بھی ہیں جو شوق سے ڈیوٹیاں دے رہے ہیں۔تو یاد رکھیں کہ آپ جس جذبے کو لے کر آئے ہیں اس جذبے کے ساتھ خدمت کر سکتے ہیں۔آپ کو بعض مجبوریوں کی وجہ سے وہاں موقع نہیں ملتا۔بعض کے لئے یہ بالکل نیا کام ہے اس لئے بعض کو شاید کام کرنے میں دقت بھی ہو، سمجھ نہ بھی آتی ہو کہ کیا کرنا ہے۔لیکن اگر بے لوث خدمت کے جذبے سے اور اپنے افسر کی اطاعت کے جذبے سے کام کریں گے تو آپ خدمت کا حق ادا کرنے والے بھی ہوں گے اور خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بھی ہوں گے۔تو دونوں قسم کے کارکنان یہ یادرکھیں کہ یہاں آپ کسی جگہ کے خاص شہری ہونے یا کسی خاص قبیلے یا علاقے کے ہونے کی وجہ سے کام نہیں کر رہے بلکہ ایک احمدی ہونے کی حیثیت سے کر رہے ہیں اور کیونکہ ہم نے اپنے آپ کو خدمت کے لئے پیش کیا ہے اس لئے ایک احمدی کا نمایاں وصف چاہے وہ کہیں کا بھی شہری ہو یہ ہونا چاہئے کہ اس نے اپنے جذبات پر کنٹرول رکھتے ہوئے خدمت کرنی ہے، اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے خدمت کرنی ہے، اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے خدمت کرنی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا تھا ہر وقت یہ ذہن میں رکھیں کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت کر رہے ہیں تبھی آپ کا یہ جذ بہ ہر وقت بیدار رہے گا۔اور