خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 726
خطبات مسرور جلد سوم 726 خطبہ جمعہ 16 / دسمبر 2005ء سامنے ہو رہا ہے یہ نظر بڑھتی چلی جارہی ہے۔آج آپ اس وقت براہ راست ساری دنیا کے سامنے ہیں اس لئے اتنے ہی زیادہ آپ کو تقویٰ کے معیار اونچے کرنے کی ضرورت ہے۔پھر استغفار کی مزید وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” استغفار کے حقیقی اور اصلی معنی یہ ہیں کہ خدا سے درخواست کرنا کہ بشریت کی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہو اور خدا فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے اور اپنی حمایت اور نصرت کے حلقہ کے اندر لے لے۔یہ لفظ غَفَر سے لیا گیا ہے جو ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔سو اس کے یہ معنے ہیں کہ خدا اپنی قوت کے ساتھ شخص مُسْتَغْفِیر کی فطرتی کمزوری کو ڈھانک لے لیکن بعد اس کے عام لوگوں کے لئے اس کے معنی اور بھی وسیع کئے گئے اور یہ بھی مراد کہ خدا گناہ کو جو صادر ہو چکا ڈھانک لے۔لیکن اصل اور حقیقی معنی یہی ہیں کہ خدا اپنی خدائی کی طاقت کے ساتھ مُسْتَغْفِر کو جو استغفار کرتا ہے فطرتی کمزوری سے بچاوے اور اپنی طاقت سے طاقت بخشے اور اپنے علم سے علم عطا کرے اور اپنی روشنی سے روشنی دے۔کیونکہ خدا انسان کو پیدا کر کے اس سے الگ نہیں ہوا بلکہ وہ جیسا کہ انسان کا خالق ہے اور اس کے تمام قوی اندرونی اور بیرونی کا پیدا کرنے والا ہے ویسا ہی وہ انسان کا قیوم بھی ہے یعنی جو کچھ بنایا ہے اس کو خاص اپنے سہارے سے محفوظ رکھنے والا ہے۔پس جبکہ خدا کا نام قیوم بھی ہے یعنی اپنے سہارے سے مخلوق کو قائم رکھنے والا اس لئے انسان کے لئے لازم ہے کہ جیسا کہ وہ خدا کی خالقیت سے پیدا ہوا ہے ایسا ہی وہ اپنی پیدائش کے نقش کو خدا کی قیومیت کے ذریعہ بگڑنے سے بچاوے۔پس انسان کے لئے یہ ایک طبعی ضرورت تھی جس کے لئے استغفار کی ہدایت ہے۔اسی کی طرف قرآن شریف میں یہ اشارہ فرمایا گیا ہے ﴿ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ (البقرة:256) سوہ خالق بھی ہے اور قیوم بھی۔اور جب انسان پیدا ہو گیا تو خالقیت کا کام تو پورا ہو گیا مگر قیومیت کا کام ہمیشہ کے لئے ہے اسی لئے دائمی استغفار کی ضرورت پیش آئی۔غرض خدا کی ہر ایک صفت کے لئے ایک فیض ہے اور استغفارصفت قیومیت کا فیض حاصل کرنے کے لئے ہے۔نیکی کرنے کی توفیق اسی وقت ملے گی جب استغفار ہوتا رہے گا۔پودا اسی وقت