خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 725 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 725

خطبات مسرور جلد سوم 725 خطبہ جمعہ 16 / دسمبر 2005ء والسلام نے فرمایا ہے کہ اگر آگ میں بھی ڈالا جائے تب بھی وہ بدی نہیں کرے گا۔لیکن آگ میں ڈالنا تو علیحدہ بات ہے۔معمولی سا دنیاوی لالچ یا ذاتی مفاد بھی بعض لوگوں کو وہی غلطیاں کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔کئی لوگوں کو جب بعض غلطیوں پر جماعتی نظام کے تحت سزا ہوتی ہے، تعزیر ہوتی ہے تو معافی مانگتے ہیں۔اور معافی کے بعد پھر وہی چیز دوہراتے ہیں۔پھر سزا ہوتی ہے پھر دوبارہ وہی حرکت کر لیتے ہیں۔تو ایسے لوگوں کو تو اگر دوبارہ سزا کے بعد معافی ہو بھی جاتی ہے تو بعض دفعہ مشروط معافی ہوتی ہے۔بعض دفعہ کا رکن یا عہدیدار ہوں تو معافی تو ہو گئی لیکن عہدوں یا کام پر نہیں لگایا گیا۔اس پر خطوط کے سلسلے شروع ہو جاتے ہیں ، نظام کے متعلق شکایات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔تو ایسے لوگوں کو پہلے اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر ، آپ کی بستی میں وقت گزار کر پھر بھی اگر اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو پھر ان کا معاملہ نظام جماعت سے نہیں یا خلیفہ وقت سے نہیں بلکہ خدا سے ہو جاتا ہے۔اس لئے میری ان باتوں سے باہر کی دنیا کیونکہ ہر جگہ خطبہ سنا جارہا ہے، یہ تاثر نہ لے لے کہ خدانخواستہ یہاں بگڑے ہوؤں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اب پرانے درویشوں کے بعد نیکی اور تقویٰ کے معیار بالکل ہی ختم ہو گئے ہیں۔کسی بھی معاشرے میں اگر دو چار ہی لوگ خراب ہوں تو برائی نظر آ جاتی ہے۔اور جتنا شفاف معاشرہ ہوگا اگر اس میں برائی پیدا ہوگی تو اتنا زیادہ نظر آ جائے گی۔جتنی سفید چادر ہوگی اتنا ہی اس میں داغ زیادہ نمایاں ہو کر نظر آئے گا۔اس لئے ہر احمدی کو اس لحاظ سے سوچنا چاہئے اور احتیاط کرنی چاہئے۔تو اس لئے بجائے اس کے کہ بعد میں برائیاں پیدا ہوں اور پھیلتی چلی جائیں اور پھر ایک کے بعد دوسرا لپیٹ میں آئے میں تو اس اصول پر چلتا ہوں کہ پہلے سمجھانا چاہئے۔اس انتظار میں نہیں رہنا چاہئے کہ جب برائی پھیلے گی تو دیکھیں گے۔جب دوسروں کو متاثر کرے گی تو دیکھیں گے۔بہر حال یہاں کے احمدیوں میں اخلاص و وفا ماشاء اللہ بہت ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو مزید بڑھاتا چلا جائے۔لیکن جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا اس بستی پر دنیا کی نظر بہت زیادہ ہے اور جتنا زیادہ ایکسپوژر (Exposure) دنیا کے