خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 714 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 714

خطبات مسرور جلد سوم 714 خطبہ جمعہ 19 دسمبر 2005ء کوشش کرنے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کو مکمل طور پر اپنانے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ کیسی تبدیلی ہے جو آپ ہمارے اندر پیدا کرنا چاہتے ہیں؟۔آپ فرماتے ہیں: ” سواے وے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ مچ تقومی کی راہوں پر قدم مارو گے۔سوا اپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہو اور اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ہر ایک جوز کوۃ کے لائق ہے وہ زکوۃ دے۔اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔نیکی کو سنوار کر ادا کرو اور بدی کو بے زار ہوکر ترک کرو۔کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19۔صفحه 15) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تعلیم کے مطابق ہر احمدی کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق جوڑے۔اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرے۔نمازوں کی طرف توجہ کرے، عبادات کی طرف توجہ صرف رسماً نہ ہو بلکہ حقیقت میں یہ نیکیاں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ دل میں قائم رکھتے ہوئے پیدا ہو رہی ہوں۔جیسا کہ آپ نے فرمایا بدی کو بیزار ہو کر ترک کرو۔وہ بدیاں کیا ہیں؟۔بظاہر عبادتیں کرنے والے ہوتے ہیں لیکن بعض برائیوں میں گرفتار ہوتے ہیں۔ان کی عبادتیں ان کو کچھ فائدہ نہیں دے رہی ہوتیں۔اگر اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق ادا نہیں کر رہے تو ایسے لوگوں کی عبادتیں دوسروں پر نیک اثر ڈالنے کی بجائے بداثر ڈال رہی ہوتی ہیں اور ان کو خود بھی کوئی فائدہ نہیں دے رہی ہوتیں۔کمزور ایمان والوں کو اور کچے ذہنوں کو مذہب سے دور لے جا رہی ہوتی ہیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اکثر فرمایا ہے کہ حقوق دو قسم کے ہیں۔ایک حقوق اللہ اور دوسرے حقوق العباد۔پس جہاں آپ حقوق اللہ ادا کر رہے ہوں وہاں حقوق العباد بھی ادا کرنا ضروری ہے۔حقوق العباد میں آپس میں محبت اور بھائی چارے کا تعلق پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے۔اور یہی بنیادی چیز ہے جس سے کہ انسان دوسرے انسان کے حقوق ادا