خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 713 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 713

خطبات مسرور جلد سوم 713 خطبہ جمعہ 19 دسمبر 2005ء شروع کر دیا۔اور اب تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو وسائل بھی عطا فرما دیئے ہیں جن سے چوبیس گھنٹے آپ کا پیغام دنیا کے کناروں تک پہنچ رہا ہے۔یہ تو خدا تعالیٰ کی اٹل تقدیر ہے۔اس نے تو انشاء اللہ تعالیٰ پورا ہو کر رہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانا ہے اور دل پھیرنے ہیں۔جس طرح آج مخالفین آپ کے خلاف نعرے لگاتے ہیں اس ابتدائی زمانے میں بھی یہ نعرے لگاتے تھے جب احمدیوں کی تعداد چند ایک تھی اور جیسا کہ میں نے کہا ان کے خلاف بڑے سخت منصوبے بنائے جا رہے تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ان مخلصین کی تضرعات اور دعاؤں کو سنا اور ہر شر سے احمدیت کو محفوظ رکھا۔ان ابتدا ئی مخلصین اور فدائین میں جن کا میں نے ذکر کیا ہے کچھ اور بھی ہیں، ذکر کر دیتا ہوں۔یعنی عباس کا اہلوں صاحب ، حاجی سلمان اچھا صاحب ، لطیف بخت صاحب، مولا بخش بھنو صاحب وغیرہ۔مناف سوکیہ صاحب اسی طرح سدھن فیملی کے بزرگ تھے، جوا ہر فیملی کے بزرگ تھے، محراب فیملی کے بزرگ تھے، نو بھے فیملی کے بزرگ تھے، درگاہی فیملی کے بزرگ تھے، عبدالرحمن صاحب تھے ، بدھن خاندان کے بزرگ تھے، سلیمان تیجو صاحب تھے ، یہ سب لوگ ابتدائی احمدیوں میں سے تھے۔ان کا نام میں نے اس لئے لیا ہے کہ ان خاندانوں کے افراد کو ذاتی تعلق کی وجہ سے احساس ہو کہ ہمارے بزرگوں نے احمدیت کی تعلیم کو اپنایا اور اس پر قائم رہے۔یہ لوگ وہ تھے جو ہمیشہ اللہ کے آگے جھکے رہے۔اپنے اخلاص و وفا کو بڑھاتے رہے اور اس بات کو اپنی نسلوں میں بھی قائم کرنے کی کوشش کرتے رہے۔پس ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آپ بھی یہ اعمال بجالائیں۔اس اہم کام کو دنیا کی چکا چوند اور دنیا کے پیچھے دوڑنے کی وجہ سے بھول نہ جائیں۔آپ کا جوش اور وفا کا تعلق عارضی نہ ہو۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ اگر آپ نے اپنے دلوں میں اور اپنی اولادوں کے دلوں میں یہ اخلاص و وفا کا تعلق قائم رکھا تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ اپنے ترقی کے قدم دیکھتے رہیں گے۔پس ہر وقت اس کوشش میں رہیں کہ ہم قرآن کریم کے حکموں کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے والے ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلنے کی