خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 711
خطبات مسرور جلد سوم 711 خطبہ جمعہ 9 دسمبر 2005ء آئے۔اور آپ نے بھی انتھک محنت اور کوشش سے جماعت کو آگے بڑھایا۔اور آخر یہیں ان کی وفات ہوئی۔ان کی وفات پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے خطبہ جمعہ میں ان کے بارے میں فرمایا کہ مولوی عبید اللہ ہمارے ملک میں سے تھا جس نے عمل سے ثابت کر دیا کہ وہ دین کے لئے زندگی وقف کرنا اور پھر اس عہد کو نبھانا دونوں باتوں کو جانتا تھا۔شہادت کا پہلا موقع عبید اللہ کو ملا یعنی ہندوستان کے کسی شخص کی شہادت کا۔فرمایا ہمیں اس کی موت پر فخر ہے تو اس کے ساتھ صدمہ بھی ہے کہ ہم میں سے ایک نیک اور پاک روح جو خدا کے دین کی خدمت میں شب وروز مصروف تھی جدا ہوگئی۔پھر حضرت صوفی غلام محمد صاحب کی واپسی پر حضرت خلیفہ لمسیح الثانی نے حضرت حافظ جمال احمد صاحب کو یہاں بھجوایا۔آپ یہاں 29 جولائی 1928ء کو پہنچے۔حضرت حافظ جمال احمد صاحب نے روانگی کے وقت حضرت خلیفہ المسح الثانی سے درخواست کی کہ ان کے بچوں کو بھی ساتھ جانے کی حضور اجازت فرمائیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس شرط پر ان کو اجازت دی کہ پھر ساری زندگی وہیں گزارنی ہوگی۔واپس آنے کی کبھی بھی اجازت نہیں ہوگی۔جب ان کے بچے جوان ہوئے تو رشتوں کے لئے انہوں نے آنے کی اجازت چاہی۔حضور نے فرمایا نہیں، اپنے وعدے کے مطابق وہیں رہیں۔اس وقت جماعت کے مالی وسائل اس قابل نہ تھے کہ ان کو واپس بلایا جا سکتا۔حضرت حافظ جمال احمد صاحب نے بھی احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی تبلیغ کا خوب حق ادا کیا۔مسلموں اور غیر مسلموں دونوں میں آپ نے خوب احمدیت کا پیغام پہنچایا۔حضرت حافظ جمال احمد صاحب جیسا کہ آپ جانتے ہیں یہیں دفن ہیں۔آپ کے بچے بھی یہیں ہیں۔حضرت حافظ جمال احمد صاحب کی وفات پر خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفہ لمسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے کام اور خدمات اور قربانیوں کا ذکر فرمایا۔نیز فرمایا وہ زمین مبارک ہے جس میں ایسا اولوالعزم اور پارسا انسان مدفون ہوا۔تو ان سب پرانے احمدیوں کا جن میں سے چند ایک کا میں نے ذکر کیا ہے اور ان ابتدائی مبلغوں کا میں نے ذکر اس لئے کیا ہے تا کہ آپ