خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 697 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 697

خطبات مسرور جلد سوم 697 خطبہ جمعہ 25 /نومبر 2005ء شادی کر کے اس کو کہتے ہیں کہ بخش بھی دو) تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا یہ عورت کا حق ہے۔اسے دینا چاہئے اول تو نکاح کے وقت ہی ادا کرے ورنہ بعد ازاں ادا کرنا چاہئے۔پنجاب اور ہندوستان میں یہ شرافت ہے کہ موت کے وقت یا اس سے پیشتر ( یعنی عورتوں کی یہ شرافت ہے کہ موت کے وقت یا اس سے پیشتر ) خاوند کو اپنا مہر بخش دیتی ہیں۔یہ صرف رواج ہے۔(ملفوظات جلد سوم صفحه 606جدید ایڈیشن) ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک صحابی نے عرض کیا کہ میری بیوی نے مجھے مہر بخش دیا ہے، معاف کر دیا ہے۔تو آپ نے فرمایا تم نے اس کے ہاتھ پر رکھا تھا۔انہوں نے کہا نہیں۔آپ نے فرمایا جاؤ پہلے ہاتھ پہ رکھو پھر اگر وہ بخش دے، معاف کر دے تو پھر ٹھیک ہے۔تو جب واپس آئے کہتے ہیں میں نے تو اس کے ہاتھ پر رکھا اور وہ دینے سے انکاری ہے۔فرمایا یہی طریقہ ہے۔(تلخیص از الازهار لذوات الخمار صفحه 160طبع دوم) اصل طریقہ بھی یہی ہے پہلے ہاتھ پر رکھو پھر معاف کرواؤ۔اس لئے جو کوشش کرتے ہیں ناں مقدمہ لانے سے پہلے کہ جو ہم نے یہ کہہ دیا وہ کہہ دیا ان کو سوچنا چاہئے۔اور پھر اسی ضمن میں ایک اور بات بھی بیان کردوں کیونکہ کل ہی بنگلہ دیش سے ایک نے خط لکھ کر پوچھا تھا کہ میری بیوی فوت ہو گئی ہے اور مہر میں نے ادا نہیں کیا تھا تو ایسی صورت میں اب مجھے کیا کرنا چاہئے۔تو اسی قسم کا ایک سوال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پیش ہوا تھا کہ میری بیوی فوت ہو گئی ہے میں نے نہ مہر اس کو دیا ہے نہ بخشوایا ہے۔اب کیا کروں۔تو آپ نے فتوی دیا ، فرمایا کہ ”مہر اس کا ترکہ ہے اور آپ کے نام قرض ہے۔آپ کو ادا کرنا چاہئے اور اس کی یہ صورت ہے کہ شرعی حصص کے مطابق اس کے دوسرے مال کے ساتھ تقسیم کیا جاوے۔جس میں ایک حصہ خاوند کا بھی ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے نام پر صدقہ دیا جاوے۔“ (فتاویٰ حضرت مسیح موعود عليه السلام صفحه 148) تو بعض لوگ جو یہ سمجھتے ہیں یہاں یورپ میں بعض دفعہ ایسے جھگڑے آ جاتے ہیں کہ ملکی قانون جو ہے وہ حقوق دلوا دیتا ہے طلاق کی صورت میں وہ کافی ہے حق مہر نہیں دینا چاہئے۔ایک تو