خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 690
خطبات مسرور جلد سوم 690 خطبہ جمعہ 25 /نومبر 2005ء پھیلانے ، نیکیوں پر عمل کرنے اور نیک نسل چلانے کیلئے کرنی چاہئے۔اور یہی بات شادی کرنے والے جوڑے کے والدین، عزیزوں اور رشتہ داروں کو بھی یادرکھنی چاہئے۔ان کے ذہنوں میں بھی یہ بات ہونی چاہئے کہ یہ شادی ان مقاصد کیلئے ہے نہ کہ صرف نفسانی اغراض اور لہو ولعب کیلئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی شادیاں کی تھیں اور اسی غرض کے لئے کی تھیں اور یہ اسوہ ہمارے سامنے قائم فرمایا کہ شادیاں کرو اور دین کی خاطر کرو۔یہی آپ نے نصیحت فرمائی۔نہ ان لوگوں کو پسند فرمایا جو صرف عبادتوں میں لگے رہتے ہیں اور دین کی خدمت میں ڈوبے رہتے ہیں۔نہ اپنے نفس کے حقوق ادا کرتے ہیں نہ بیوی بچوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دیتے ہیں۔نہ ان لوگوں کو پسند کیا جو دولت کے لئے ، خوبصورتی کے لئے ، اعلیٰ خاندان کے لئے رشتے جوڑتے ہیں یا جو ہر وقت اپنی دنیا داری اور بیوی بچوں کے غم میں ہی مصروف رہتے ہیں۔نہ ان کے پاس عبادت کے لئے وقت ہوتا ہے اور نہ دین کی خدمت کے لئے کوئی وقت ہوتا ہے۔خلاصہ یہ کہ نہ اسلام یہ کہتا ہے کہ دنیا میں اتنے پڑ جاؤ کہ دین کو بھول جاؤ، نہ یہ کہ بالکل ہی تجرد کی زندگی اختیار کرنا شروع کر دو اور دنیا داری سے ایک طرف ہو جاؤ۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا کہ کسی صحابی نے کہا ہے کہ میں شادی نہیں کروں گا اور مسلسل عبادتوں میں اور روزوں میں وقت گزاروں گا۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کیسے لوگ ہیں۔میں تو عبادتیں بھی کرتا ہوں ، روزے بھی رکھتا ہوں، بندوں کے دوسرے حقوق بھی ادا کرتا ہوں شادیاں بھی کی ہیں۔پس جو شخص میری سنت سے منہ موڑتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے۔پھر اسلام کسی بھی طرف جھکاؤ سے منع کرتا ہے۔اپنا اُسوہ حسنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے رکھ دیا۔نہ افراط کرونہ تفریط کرو۔آخر میں جو فرمایا کہ جو میری سنت سے منہ موڑتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے۔اس میں ان لوگوں کے لئے بھی وارننگ ہے جو یہ کہتے ہیں کہ شادی صرف خوشی کا نام ہے اور اس میں ہر طرح جو مرضی کر لو کوئی حرج نہیں۔تو آپ نے یہ کہہ کر کہ جو میری سنت سے منہ موڑتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے۔یعنی افراط کرنے والوں کو بھی بتا دیا کہ لغویات سے بچنا نیکیوں کو قائم کرنا بلکہ تقویٰ کے اعلیٰ ترین معیار حاصل کرنا میری سنت ہے اس