خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 688 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 688

خطبات مسرور جلد سوم 688 خطبہ جمعہ 25 /نومبر 2005ء کیا گیا۔غریب آدمی اگر یہ حرکتیں کرے تو اسے سزا ملتی ہے۔بہر حال یہ تو بعض دفعہ لوگوں کی بدظنیاں بھی ہیں لیکن جب اس طرح صرف نظر ہو جائے چاہے غلطی سے ہو جائے اور پتہ نہ لگے تو یہ بدظنیاں پیدا ہوتی ہیں۔اس بارے میں واضح کر دوں کہ ایسی حرکتیں جو جماعتی وقار کی اور اسلامی تعلیم اور اقدار کی دھجیاں اڑاتی ہوں اگر مجھے پتہ لگ جائے تو ان پر میں بلا استثنا، بغیر کسی لحاظ سے کارروائی کروں گا اور کی بھی جاتی ہیں اس لئے یہ بدظنیاں دور ہونی چاہئیں۔بعض لوگ اکثر مہمانوں کو رخصت کرنے کے بعد اپنے خاص مہمانوں کے ساتھ علیحدہ پروگرام بناتے ہیں اور پھر اسی طرح کی لغویات اور ہلڑ بازی چلتی رہتی ہے گھر میں علیحدہ ناچ ڈانس ہوتے ہیں چاہے لڑکیاں لڑکیاں ہی ڈانس کر رہی ہوں یا لڑکے لڑکے بھی کر رہے ہوں لیکن جن گانوں اور میوزک پر ہو رہے ہوتے ہیں وہ ایسی لغو ہوتی ہیں کہ وہ برداشت نہیں کی جاسکتیں اس لئے آج میں خاص طور پر پاکستان اور ہندوستان اور اس معاشرے کے لوگوں کو جہاں ہندووانہ رسم ورواج تیزی سے راہ پا رہے ہیں ، داخل ہو رہے ہیں، ان کے احمدیوں کو کہتا ہوں کہ اس سلسلہ میں اپنی اصلاح کر لیں اور جماعتی نظام اور ذیلی تنظیموں کا نظام جو ہے یہ بھی ان بیاہ شادیوں پر نظر ر کھے اور جہاں کہیں بھی اس قسم کی بیہودہ فلموں کے ناچ گانے یا ایسے گانے جو سراسر شرک پھیلانے والے ہوں دیکھیں تو ان کی رپورٹ ہونی چاہئے۔اس بارے میں قطعاً کوئی ڈرنے کی ضرورت نہیں کہ کوئی کس خاندان کا ہے اور کیا ہے؟ آج کل پاکستان میں کیونکہ شادیوں کا سیزن ہے تو جیسا کہ میں نے کہا اکا دُکا یہ شکایات پیدا ہو جاتی ہیں اس لئے چند مہینے خاص طور پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ویسے تو جب بھی اور جہاں بھی اس قسم کی حرکتیں ہو رہی ہوں فوری نوٹس لینا چاہئے لیکن ان دنوں میں جیسا کہ میں نے کہا شادیوں کی کثرت کی وجہ سے ایک دوسرے کے دیکھا دیکھی بھی ایسی حرکتیں سرزد ہوتی ہیں۔حالانکہ غیروں کو جب ہم اپنی شادیوں پر بلاتے ہیں تو ان کی اکثریت جو ہے وہ ہماری شادی کے طریق کو پسند کرتی ہے کہ تلاوت کرتے ہیں، دعائیہ اشعار پڑھتے ہیں، دعا کرتے ہیں اور بچی کو رخصت کرتے ہیں۔اور یہی طریق ہے جس سے اس جوڑے کے ہمیشہ پیار محبت سے رہنے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بننے کے لئے دعا کر رہے ہوتے ہیں اور اس کی آئندہ نسل کے