خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 684 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 684

خطبات مسرور جلد سوم 684 خطبہ جمعہ 18 /نومبر 2005ء غیر مسلموں کی طرف سے بھی۔چاہے مہینے میں دو چار ہی ہوں لیکن بہر حال بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔جماعت جس طرح پھیل رہی ہے بعض نئے آنے والے اپنے کاروباری ساتھیوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور ان کے پرانے دھو کے چل رہے ہوتے ہیں۔لیکن مجھے تکلیف اس وقت زیادہ ہوتی ہے جب پرانے احمدی خاندانوں کے بعض لوگ بھی دھوکے میں ملوث ہوتے ہیں۔پاکستان سے بھی اور دوسرے ملکوں سے بھی بعض غیر از جماعت خط لکھتے ہیں کہ آپ کا فلاں احمدی ہمارے اتنے پیسے کھا گیا۔بلکہ ایک نے تو یہ لکھا کہ میں نے آپ کو خط لکھا تھا آپ نے جماعت کو کہا جماعت نے بڑی مدد کی۔لیکن وہ احمدی کسی طرح اس وعدے کو پورا کرنے یا پیسے دینے پر راضی نہیں ہے۔اس لئے میں اب اپنا معاملہ خدا پر چھوڑتا ہوں۔یہ الفاظ تو ایک احمدی کو کہنے چاہئیں کہ میں اپنا معاملہ خدا پہ چھوڑتا ہوں کجا یہ کہ کوئی دوسرا کہہ رہا ہو۔تو جب بھی ایسے معاملات کا علم ہوتا ہے تو دوسرے کے پیسے واپس کرانے یا ادا کرنے کی کوشش تو کی جاتی ہے لیکن بعض دفعہ مطالبہ کرنے والا بھی غلط ہوتا ہے، ناجائز مطالبہ کر رہا ہوتا ہے۔بہر حال احمدیوں کا فرض بنتا ہے کہ اپنے لین دین کو ، ماپ تول کو، کاروبار کو، قرضوں کی واپسی کو ، بالکل صاف ستھرا رکھیں۔قرآنی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی توقعات کے مطابق ہمیشہ اپنا دامن پاک وصاف رکھیں۔اس طرح کرنے سے جہاں وہ اپنی عاقبت سنوارنے والے ہوں گے وہاں جماعت کی نیک نامی کا بھی باعث بن رہے ہوں گے۔پہلے بھی میں کئی دفعہ اس بارے میں کہہ چکا ہوں یہ بھی ایک خاموش تبلیغ ہے۔اللہ تعالیٰ سب کو اس طرح عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ ہر کوئی اپنے معاملات ہمیشہ صاف رکھنے ولا ہو۔