خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 62 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 62

خطبات مسرور جلد سوم 62 خطبہ جمعہ 4 فروری 2005ء مجھے مرنا در پیش ہے تو میں بخوشی اپنے لئے اس موت کو قبول کرتا ہوں۔میری زندگی اسی راہ میں وقف ہے۔میں موت کے ڈر سے اظہار حق سے رک نہیں سکتا۔اور اسے چا! اگر تجھے اپنی کمزوری اور اپنی تکلیف کا خیال ہے تو تو مجھے پناہ میں رکھنے سے دستبردار ہو جا۔بخدا مجھے تیری کچھ بھی حاجت نہیں، ہمیں احکام الہی کے پہنچانے سے کبھی نہیں رکوں گا۔مجھے اپنے مولا کے احکام جان سے زیادہ عزیز ہیں۔بخدا اگر میں اس راہ میں مارا جاؤں تو چاہتا ہوں کہ پھر بار بارزندہ ہو کر ہمیشہ اسی راہ میں مرتا رہوں۔یہ خوف کی جگہ نہیں بلکہ مجھے اس میں بے انتہا لذت ہے کہ اس کی راہ میں دکھ اٹھاؤں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ تقریر کر رہے تھے اور چہرہ پر سچائی اور نورانیت سے بھری ہوئی رقت نمایاں ہو رہی تھی۔اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ تقریر ختم کر چکے تو حق کی روشنی دیکھ کر بے اختیار ابوطالب کے آنسو جاری ہو گئے اور کہا کہ میں تیری اس اعلیٰ حالت سے بے خبر تھا۔تو اور ہی رنگ میں اور اور ہی شان میں ہے۔جا اپنے کام میں لگارہ ، جب تک میں زندہ ہوں، جہاں تک میری طاقت ہے میں تیرا ساتھ دوں گا۔(ازالہ اوهام روحانی خزائن جلد 3 صفحه 110-111) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس بارے میں حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ : ” یہ سب مضمون ابوطالب کے قصہ کا اگر چہ کتابوں میں درج ہے مگر یہ تمام عبارت الہامی ہے جو خدا تعالیٰ نے اس عاجز کے دل پر نازل کی۔صرف کوئی کوئی فقرہ تشریح کے لئے اس عاجز کی طرف سے (ازاله اوهام روحانی خزائن جلد 3 صفحه 111-112) تو یہ تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ کی محبت میں فنا ہونے کا مقام۔آج دنیا دار اعتراض کرتے ہیں کہ آپ نعوذ باللہ دنیاوی حشمت چاہتے تھے جس کے لئے یہ سب کچھ آپ نے کیا۔بلکہ اس وقت سے ہی یہ اعتراض چلا آ رہا ہے، آپ کی بعثت کے وقت سے ہی۔پھر صرف یہی نہیں کہ سخت اور ست کہا اور دھمکیاں دیں کہ آپ اس کام سے باز آ جائیں بلکہ عملاً بھی آپ کو تکلیفیں پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، جس کے بے شمار واقعات ہیں لیکن اس کے با وجود خدا تعالیٰ کی محبت کو کفار آپ کے دل سے کم نہ کر سکے۔اسی طرح ایک واقعہ روایات میں یوں آتا ہے۔عبداللہ بن عمرو بن عاص کہتے ہیں کہ