خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 681
خطبات مسرور جلد سوم 681 خطبہ جمعہ 18 /نومبر 2005ء اکثر مشاہدہ میں آتا ہے ایسے لوگ جو بد نیتی سے قرض لیتے ہیں ان کے کاموں میں بڑی بے برکتی رہتی ہے۔مالی لحاظ سے وہ لوگ ڈوبتے ہی چلے جاتے ہیں اور خود تو پھر ایسے لوگ برباد ہوتے ہی ہیں ساتھ ہی اس بے چارے کو بھی اس رقم سے محروم کر دیتے ہیں جس سے انہوں نے باتوں میں چرا کر رقم کی ہوئی ہوتی ہے۔جو بعض دفعہ اس لالچ میں آ کر قرض دے رہا ہوتا ہے، پیسے کا روبار میں لگا رہا ہوتا ہے کہ مجھے غیر معمولی منافع ملے گا۔وہاں عقل اور سوچ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بس وہ منافع کے چکر میں آکر اپنے پیسے ضائع کر دیتے ہیں اور بظاہر اچھے بھلے عقلمند لوگوں کی اس معاملے میں عقل ماری جاتی ہے اور ایسے دھو کے بازوں کو رقم دے دیتے ہیں۔تو قرض جب بھی لینا ہو نیک نیتی سے لینا چاہئے۔جیسا کہ آپ نے فرمایا اللہ پھر اس کی مدد کرتا ہے۔اور ایک احمدی کا یہی نمونہ ہونا چاہئے اور قرض کی واپسی بھی بڑے اچھے طریقے سے ہونی چاہئے جیسا کہ پہلے بھی ذکر آ چکا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کی ایک اور روایت میں بیان کرتا ہوں۔ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک سال کا اونٹ لینا تھا وہ آیا اور تقاضا کرنے لگا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے دے دو۔جس کو بھی آپ نے کہا تھا انہوں نے طلب کرنے والے کے تقاضے کے مطابق اونٹ تلاش کیا تو اس عمر کا یعنی ایک سال کا اونٹ انہوں نے نہیں پایا۔بڑی عمر کا اونٹ تھا جو زیادہ قیمتی تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو دے دو۔اس پر جس کو دینا تھا اس نے کہا آپ نے میرا قرض بہتر طور پر پورا کیا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو بہتر دے۔” بہر حال وہ اس کی دعا تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرض ادا کرنے کے لحاظ سے بہتر ہو۔(بخاری - كتاب الوكالة -باب وكالة الشاهد والغائب جائزة۔۔۔۔۔تو یہ قرض کی ادائیگی کے نیک طریق کے نمونے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دکھائے ہیں۔احمدیوں نے اگر دنیا سے فساد کو دور کرنا ہے تو آپس میں جو بھی لین دین یا قرض لیتے ہیں ان کی اس طرح حسن ادائیگی ہونی چاہئے۔آپس میں کاروباری معاملات خوبصورتی سے طے