خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 679 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 679

خطبات مسرور جلد سوم 679 خطبہ جمعہ 18 /نومبر 2005ء نصیحت فرماتے ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی تمہارے پاس کوئی چیز امانت کے طور پر رکھتا ہے اس کی امانت اسے لوٹا دو اور اس شخص سے بھی ہرگز خیانت سے پیش نہ آؤ جو تم سے خیانت سے پیش آچکا ہے۔(ابوداؤد۔کتاب البیوع ـ باب في الرجل ياخذحقه من تحت يده) پھر صرف یہی نہیں کہ امانت لوٹا دو بلکہ فرمایا کہ وہ شخص مومن ہی نہیں کہلا سکتا جو امانتوں میں خیانت کرتا ہے، جو دوسروں کے حق مارتا ہے، جو کسی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے، جو اپنے عہد کو صحیح طور پر نہیں نبھا تا۔اس بارے میں ایک اور روایت ہے۔حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطاب کرتے ہوئے ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ لَا إِيْمَانَ لِمَنْ لَّا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِين لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ یعنی جو شخص امانت کا لحاظ نہیں رکھتا اس کا ایمان کوئی ایمان نہیں اور جو عہد کا پاس نہیں رکھتا اس کا کوئی دین نہیں۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحه 135 مطبوعه بيروت) اب امانت صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ کسی نے کوئی چیز یار تم کسی کے پاس رکھوائی تو وہ اس طرح واپس کر دی۔یہ تو ہے ہی لیکن کوئی بھی شخص جو بھی کام کر رہا ہے اگر وہ اس کا حق ادا نہیں کر رہا ، چاہے کام میں ستی کر کے حق ادا نہیں ہو رہا یا کاروباری آدمی کا اپنے کاروبار میں دوسرے کو دھو کے دینے کی وجہ سے اس سے انصاف نہیں ہو رہا، حق ادا نہیں ہو رہا تو یہ خیانت ہے کیونکہ کاروبار میں ، لین دین میں مثلاً اگر کسی نے کسی دوسرے پر اعتبار کیا ہے تو اس کو امین سمجھ کر ہی ، اس کو امانتدار سمجھ کر ہی اس سے کاروبار یا لین دین کا معاہدہ کیا ہے۔اگر اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے تو یہ خیانت ہے۔پھر ہمارے ملکوں میں سودے ہوتے ہیں۔لوگ چیزیں بیچتے ہیں تو اس میں ملاوٹ کر دیتے ہیں۔یہ خیانت ہے۔امانت کا صحیح طرح حق ادا کرنا نہیں ہے، کسی کا حق مارنا ہے۔تو یہ سب باتیں ایسی ہیں جو ایمان میں کمزوری کی نشانی ہیں۔وعدوں کا پاس کرنا ہے۔اگر اپنے عہد نہیں نبھا ر ہے تو عہد توڑنے کے گناہ کے مرتکب