خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 668
خطبات مسرور جلد سوم 668 خطبہ جمعہ 11 /نومبر 2005ء حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے تحریک جدید کو جاری کرنے کا مقصد یہی تھا کہ مبلغین تیار ہوں جو بیرونی ملکوں میں جائیں، وہاں مشن کھولے جائیں، مسجدیں تعمیر کی جائیں اور اسلام اور احمدیت کے پیغام کو دنیا میں پھیلایا جائے۔آپ نے ایک دفعہ بڑے درد سے فرمایا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ دنیا کے چپہ چپہ پر مسجد بن جائے اور دنیا جس میں عرصہ دراز سے تثلیث کی پکار بلند ہو رہی ہے خدائے واحد کے نام سے گونجنے لگے۔پس آج ہم خوش تو ہیں کہ عیسائیت کے گڑھ میں ہم نے خدائے واحد کا نام بلند کرنے کے لئے ایک اور مسجد کا افتتاح کر دیا ہے۔لیکن یہ ہماری انتہا نہیں ہے۔ہمارے مقصد تو تبھی پورے ہوں گے جب ہم ہر شہر میں، ہر قصبے میں اور ہر گاؤں میں خدائے واحد کا نام بلند کرنے کے لئے مسجد تعمیر کریں گے اور اس کو پھر خالصتاً خدائے واحد کی عبادت کرنے والی روحوں سے بھر دیں گے۔پس یہ وہ روح ہے جس کے ساتھ واقفین زندگی اپنی زندگیاں وقف کرتے ہیں اور اسی روح کے ساتھ زندگیاں وقف کرنی چاہئیں ہمارے سارے مبلغین کو ، سارے واقفین زندگی کو۔اور یہ وہ روح ہے جس کے ساتھ مجاہدین تحریک جدید مالی قربانیاں خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرتے ہیں۔اور اس روح کے ساتھ قربانیاں پیش کرنی چاہئیں۔جب یہ جذبہ ہر دل میں ہو گا تو قربانیوں کے معیار بھی بڑھیں گے اور ہر ایک صرف اس وجہ سے تحریک جدید میں حصہ نہیں لے رہا ہو گا کہ مجبوری ہے اس کو سیکرٹری تحریک جدید کی طرف سے یا جماعت کی طرف سے توجہ دلائی گئی ہے، بلکہ دلی جوش اور جذبے کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اس تحریک میں حصہ لے رہے ہوں گے۔اب گزشتہ سال کے کوائف بتانے سے پہلے یہ بھی بتا دوں کہ گزشتہ سال میں نے اعلان کیا تھا کہ حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خلافت کے ابتدائی دور میں یہ توجہ دلائی تھی کہ دفتر اول کے پانچ ہزار مجاہدین کے کھاتے کبھی مردہ نہیں ہونے چاہئیں۔ان بزرگوں کے لواحقین کو کوشش کرنی چاہئے ، ان کے ورثاء کو کوشش کرنی چاہئے کہ جو کھاتے ختم ہو گئے ہیں وہ دوبارہ زندہ ہوں لیکن اُس وقت کیونکہ براہ راست سنے کا ذریعہ نہیں تھا اور ہر ایک تک خبر بھی نہیں