خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 658 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 658

خطبات مسرور جلد سوم 658 خطبہ جمعہ 11 نومبر 2005ء بھی بے فائدہ ہیں جو آپ نے مسجد کی تعمیر کے لئے کی ہیں اور یہ عمارت بھی بے فائدہ ہے جو تقویٰ سے پُر دلوں کی بجائے وقتی جوش رکھنے والے دلوں نے بنائی ہے۔اللہ کرے کہ آپ میں سے ہر ایک اپنے اس مقصد پیدائش کو سمجھتے ہوئے اپنے دل کو تقویٰ سے سجاتے ہوئے مسجد کو آباد کرنے والا ہو۔یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں آدم کے بیٹے کہہ کر بات شروع کی ہے۔کیونکہ اس سے پہلے آدم کا ذکر چل رہا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں سے روکا لیکن شیطان کے بہکاوے میں آکر اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی ان سے ہو گئی۔اور پھر جب آدم اور حوا کو احساس ہوا کہ اللہ کی بات نہ مان کر یہ سب کچھ غلط ہو گیا تو پھر توجہ استغفار کی طرف ہوئی۔پھر تو بہ واستغفار سے انہوں نے اللہ کے فضل کو سمیٹنے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اور اس کی خشیت ان کے دل میں پیدا ہوئی۔اس پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ اے بنی آدم! یقیناً ہم نے تم پر لباس اتارا ہے جو تمہاری کمزوریوں کو ڈھانپتا ہے اور زینت کے طور پر ہے اور رہا تقویٰ کا لباس تو وہ سب سے بہتر ہے۔یہ اللہ کی آیات میں سے کچھ ہیں تا کہ وہ نصیحت پکڑیں۔یعنی تمہارے سامنے تمہارے باپ آدم کی مثال موجود ہے جب شیطان نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا جس سے ایک غلطی سرزد ہوئی ، پھر اس کو اپنی کمزوریوں کا پتہ چلا اور پھر تو بہ واستغفار اور اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنا ہی تھا جس نے آدم کے ننگ اور کمزوریوں کو ڈھانپا۔اب اگر تم نے بھی شیطان کے حملوں سے بچنا ہے اور یہ شیطان کے حملے قدم قدم پر پھیلے ہوئے ہیں۔اگر دنیاوی لالچوں سے بچنے کے لئے کوئی طریق اختیار کرنا ہے تو وہ یہی تو بہ واستغفار ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنا ہے اور اپنے مقصد پیدائش کو پہچاناہی ہے۔اس کے بغیر تمہاری کمزوریوں کو کوئی چیز دور نہیں کر سکتی۔اس کے علاوہ کوئی ذریعہ نہیں ہے جو تمہیں شیطان کے حملوں سے بچا سکے۔پس یہی چیزیں ہیں جن کی طرف تمہیں توجہ دینی چاہئے اور جب تم اس پر توجہ دو گے تو تمہارے دل میں اللہ کی خشیت اور اس کا تقویٰ پیدا ہو گا۔اور جب یہ تقویٰ پیدا ہوگا تو یہ تمہارا لباس بن کر رہے گا، تمہارے حسن کو نکھارے گا، تمہیں ہر شیطانی حملے سے محفوظ رکھے گا، اللہ کا قرب