خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 657 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 657

خطبات مسرور جلد سوم 657 خطبہ جمعہ 11 /نومبر 2005ء عبادت کریں اور مجھے پہچانیں۔عبادت کے لئے جو ہمیں طریقے سکھائے گئے ہیں اور ایک مومن کے لئے جس نے یہ اعلان کیا ہے کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ، اس کے لئے یہ فرض کیا گیا ہے کہ وہ پانچ وقت نماز ادا کرے۔پھر نماز کے اوقات معین کر کے بتائے کہ یہ پانچ اوقات ہیں۔تم پر فرض ہے کہ ان اوقات میں نماز مسجد میں جا کر با جماعت ادا کرو۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”باجماعت نماز اکیلے نماز پڑھنے کی نسبت ستائیس گنا افضل ہے“۔(صحیح مسلم كتاب الصلوة باب فضل صلوة الجماعة) یعنی اس کا ثواب ستائیس گنا زیادہ ہے۔پس ہم جب مسجد بناتے ہیں تو کسی دکھاوے یا مقابلے کے لئے نہیں بناتے بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے کے لئے ، اس کی عبادت کے لئے بناتے ہیں۔اور یہی سوچ ہے جس کے تحت ہر احمدی کو مسجد میں نمازوں کے لئے آنا چاہئے ، یہاں کے رہنے والے احمدیوں میں سے بعض تو ایسے ہیں جو کام پر جاتے ہیں، بعض نمازوں کے اوقات مثلاً ظہر، عصر یا بعض حالات میں مغرب پر مسجد میں حاضر نہیں ہو سکتے وہ تو اپنے کام کی جگہ پر پڑھ لیں۔لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو کسی کام کے بغیر ہیں، اسائکم کے فیصلے کے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں یا ویسے ہی کام سے فارغ ہو چکے ہیں ان کو پانچوں وقت مسجد میں آنا چاہئے۔اب یہ مسجد پانچ وقت نمازوں کے لئے کھلنی چاہئے اور جو پہلی قسم میں نے کام کرنے والوں کی بیان کی ہے ان کو بھی فجر، مغرب اور عشاء کی نماز کے لئے مسجد میں آنا چاہئے۔ہر مرد پر یہ فرض ہے بلکہ جو بچے دس سال کی عمر کو پہنچ گئے ہیں ان پر بھی فرض ہے۔ایک احمدی جس کا یہ دعویٰ ہے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا اور آپ کو مان کر اپنے آپ کو دوسروں سے ممتاز کیا ہے اس کی شان کے خلاف ہے کہ دنیا کی مصروفیتیں یا کام یا اور اس قسم کے بہانے اسے نماز کے لئے مسجد میں آنے سے روکیں۔احمدی کی شان یہی ہے کہ ہر دنیا وی مجبوری کو پس پشت ڈال دے، پیچھے پھینک دے۔دنیا کا کوئی لالچ، دنیا کی کوئی دلچسپی اس کی باجماعت نمازوں میں روک نہ بنے۔ورنہ یہ قربانیاں