خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 646
خطبات مسرور جلد سوم 646 خطبہ جمعہ 28 اکتوبر 2005ء مشکلات کو حل کر دیتا ہے۔غرض دُعا بڑی دولت اور طاقت ہے۔اور قرآن شریف میں جا بجا اس کی ترغیب دی ہے اور ایسے لوگوں کے حالات بھی بتائے ہیں جنہوں نے دعا کے ذریعہ اپنی مشکلات سے نجات پائی۔انبیاء علیہم السلام کی زندگی کی جڑ اور ان کی کامیابیوں کا اصل اور سچا ذریعہ یہی دعا ہے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی ایمانی اور عملی طاقت کو بڑھانے کے واسطے دعاؤں میں لگے رہو۔دعاؤں کے ذریعہ سے ایسی تبدیلی ہوگی جو خدا کے فضل سے خاتمہ بالخیر ہو جائے“۔(الحكم مورخه 17 جنوری 1905ء صفحه 3 کالم نمبر 21) جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا۔ان آخری دنوں میں خاص طور پر جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو توفیق دے کہ وہ دعاؤں میں لگا رہے اور اپنی ایمانی اور عملی حالت کو بڑھانے کی کوشش کرے۔دعاؤں کی قبولیت کے لئے پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر فضل کر رہا ہوتا ہے۔پس ان دنوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت زیادہ دعاؤں پر زور دیں اور رمضان کی برکات سمیٹنے کی ہر احمدی کوشش کرے۔اور زیادہ تر دعا ئیں یہ ہونی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو اور تب ہی ہمارا دعائیں کرنا ہماری زندگی کا مستقل حصہ بن سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی رضا ہم حاصل کر لیں گے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آخری عشرے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کے لئے اتنی کوشش فرماتے جو اس کے علاوہ کبھی دیکھنے میں نہ آتی تھی۔(صحيح مسلم - كتاب الاعتكاف باب الاجتهاد في العشر الاواخر من شهر رمضان) پس ہمارے سامنے یہ اُسوہ ہے۔ان بقایا دنوں میں ہمیں چاہئے کہ خاص توجہ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں یہ دن گزاریں، دعاؤں میں لگ جائیں اور اپنی دنیا و آخرت سنوار نے والے بن جائیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں۔کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ایمان کی حالت میں اور محاسبہ نفس کرتے ہوئے رمضان کے روزے رکھے، اسے اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جس شخص نے ایمان کی حالت میں اور اپنے نفس