خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 644
خطبات مسرور جلد سوم 644 خطبہ جمعہ 28 اکتوبر 2005ء پس جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی اور اچھے انجام کی خبر مل رہی ہو تو پھر کسی اور طرف جانے کی کیا ضرورت ہے۔اس لئے ہمیشہ ایک مومن کو صبر سے دعائیں مانگتے رہنا چاہئے اور جب ہم دعاؤں میں خدا تعالیٰ سے اس کی رضا اور توجہ مانگیں گے تو غیر ضروری دعاؤں کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔دوسری سب دعا ئیں غیر ضروری بن جائیں گی۔کبھی ہمارے منہ سے ایسی دعا ئیں نہیں نکلیں گی جو بعض دفعہ جلد بازی میں آ کر ایسی ہو جاتی ہیں جو خیر سے خالی ہوں۔ایسی دعائیں کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی جن میں صرف اور صرف اپنی ذات کا لالچ ہو ،صرف اور صرف دنیاوی ضروریات ہی ان کا محور ہو، دنیا وی ضروریات کے گرد ہی گھوم رہی ہوں۔جب اللہ تعالیٰ کی مرضی مل جائے گی تو خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کے مطابق خود ہمارا کفیل ہو جائے گا۔خود ہی ہماری ضروریات پوری کرنے والا ہو گا۔بعض دوسری دعائیں کرنے والوں جن کے اندر دعاؤں کی وجہ سے تبدیلیاں پیدا ہوئی ہوتی ہیں ، ان کو دیکھ کر بھی توجہ پیدا ہوتی ہے۔یہ خیال آیا ہے کہ ہم بھی دعاؤں کی طرف توجہ کریں، ہم بھی ان جیسے بنیں۔اگر یہ توجہ پیدا ہوئی ہے تو شرط یہ ہے کہ ان رمضان کے تمہیں دنوں کے بعد صبر ٹوٹ نہ جائے بلکہ دعاؤں کی عادت جو اس خالص ماحول کی وجہ سے پڑگئی ہے یا اس طرف توجہ پیدا ہوئی ہے کہ ہم دعائیں کریں، یہ خیال آتا ہے تو اب یہ چیزیں زندگیوں کا حصہ بننی چاہئیں۔ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے کہ اب ہم اس عادت کو جو ہمیں یا اس چیز کو جو ہم نے اپنائی ہے، اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنالیں۔جیسا کہ میں نے ذکر کیا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخری عشرہ میں اللہ تعالیٰ جہنم سے نجات دیتا ہے۔دعائیں قبول کرتا ہے۔تو یہ دعا بھی کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا کی ہوا و ہوس کی جہنم سے بھی ہمیں نجات دے۔ہماری دعائیں قبول فرمائے ، ہماری توبہ قبول فرماتے ہوئے ہمیں اپنی رضا کو حاصل کرنے والا بنادے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارہ میں فرماتے ہیں کہ : " أجِيبُ دَعْوَةَ ـدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ﴾ (البقرة : 187) یعنی میں تو بہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہوں۔خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ اس اقرار کو جائز قرار دیتا ہے جو کہ بچے دل سے تو بہ کرنے والا کرتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی