خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 643 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 643

خطبات مسرور جلد سوم 643 خطبہ جمعہ 28 اکتوبر 2005ء کوئی بھی عمل خدا تعالیٰ کی تعلیم کے خلاف نہ ہو ، تب جا کے ایمان کی تکمیل ہوتی ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ پر اعتقاد بھی ہو ، قول صدق بھی ہو اور عمل صالح بھی۔یہ ساری چیزیں اکٹھی ہوں گی تو اس کو ایمان کہا گیا ہے اور اگر یہ تینوں چیزیں اکٹھی نہیں ہیں تو کامل ایمان بھی نہیں ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میرے پر ایمان لاؤ اور اس طرح ایمان لاؤ۔اب دیکھیں کتنے خدا تعالیٰ کے احکامات ہیں، کتنوں پر ہم عمل کرتے ہیں۔عبادت کو ہی لے لیں، کیا ہم اس کا حق ادا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق ہیں، کیا ہم ان کو ادا کرتے ہیں۔اگر کسی معاملے میں ذرا سا کہیں اپنا مفاد آ جائے تو فوراً سب کچھ بھول جاتے ہیں اور اپنے مفاد کی فکر ہوتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مجھ سے دعا مانگو اور پھر دعا کے لئے صبر سے مانگتے چلے جانے کی شرط ہے۔جلد بازی کرتے ہوئے بیچ میں چھوڑ دینا دعا مانگنے کا طریق نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی یہ نشانی بتائی ہے کہ وہ جب صبر سے دعا کرتے ہیں اور جب بھی دعا کرتے ہیں صبر سے کرتے ہیں اور جلد بازی نہیں کرتے جب اس طرح کر رہے ہوتے ہیں تو وہ اپنے مقصود کو پالیتے ہیں۔اور ان کا مقصود کیا ہوتا ہے۔کیا چیز انہوں نے حاصل کرنی ہوتی ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہے، جیسا کہ فرمایا وَالَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ ﴾ (الرعد: (23) اور جنہوں نے اپنے رب کی رضا کی طلب میں صبر کیا۔تو جب اللہ تعالیٰ کی وجہ سے صبر کرتے ہیں، مستقل مزاجی سے اس سے دعائیں مانگتے ہیں اور پھر مانگتے چلے جاتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ فرمایا پھر میں دعاؤں کو سنتا بھی ہوں بشرطیکہ اس کا حق ادا کیا جائے یعنی یہی کہ صبر کے ذریعہ سے مانگتے چلے جائیں اور مقصد بھی ان کا یہ ہو کہ میری رضا حاصل کرنی ہے تو باقی چیزیں تو ضمنی چیزیں ہیں ، وہ تو مل ہی جائیں گی جب اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جائے گی۔فرمایا کہ سلمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ ﴾ (الرعد:25) تمہارے اس صبر اور ثابت قدمی کی وجہ سے تم پر سلامتی ہو۔تمہارے اس طرح مانگنے کی وجہ سے تمہیں میری نعمتیں حاصل ہوں۔