خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 641
خطبات مسرور جلد سوم 641 خطبہ جمعہ 28 اکتوبر 2005ء اور یہ دن جو ہیں ان کو دعاؤں میں گزارنا چاہئے۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس سے پہلے بھی رمضان سے متعلقہ احکامات ہیں اور اس کے بعد بھی جو آیات آتی ہیں ان میں بھی۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً میں قریب ہوں۔میں دُعا کرنے والے کی دُعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تا کہ وہ ہدایت پائیں تو اس میں اللہ تعالیٰ نے قبولیت دعا کا طریق ہمیں سمجھا دیا۔پہلی بات تو یہ کہ صرف اپنی دنیاوی اغراض کے لئے ہی میرے پاس نہ آؤ بلکہ مجھے تلاش کرنے کے لئے میرے پاس آؤ۔میری رضا حاصل کرنے کی کوشش کرو۔جب مجھ سے مجھے مانگو گے تو پھر میں تمہیں بتاؤں گا کہ میں تمہارے سے دور نہیں ہوں۔میں تو تمہارے قریب ہوں بلکہ تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں۔اور میں اپنے لئے اپنے بندے کی پکار سن کر دوڑتا ہوا اس کی طرف آتا ہوں۔مگر تم اس طریقے اور سلیقے سے مجھے پکارو تو سہی جو میں نے تم کو بتائے ہیں۔صرف اپنا مطلب پڑنے پر ہی مجھے آواز نہ دو۔جب کسی مشکل میں گرفتار ہو جاؤ صرف اسی وقت مجھے نہ پکارو۔صرف کسی ضرورت اور تکلیف کے وقت ہی نہ مجھے پکارو گو کہ ایسی تکلیف کی حالت میں بھی پکارنے والوں کی تکلیفیں اللہ تعالیٰ دور کرتا ہے۔لیکن صرف ایسی صورت میں پکارنے سے دوستیاں قائم نہیں ہوتیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ بندے کا خدا تعالیٰ کے ساتھ دوست کا معاملہ ہے۔پس اصل اور پائیدار اور ہمیشہ رہنے والی دوستی کے لئے دوست کی باتیں بھی ماننی پڑتی ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میری بات پر لبیک کہو۔جو میں کہتا ہوں اسے مانو تو پھر یہ ہماری دوستی پکی ہوگی۔اس لئے پہلا حکم جس کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے یہی اللہ تعالیٰ نے دیا ہے کہ ایک خدا کی عبادت کرو۔صرف رمضان کے تین دن عبادتوں کے لئے نہیں ہیں بلکہ فرمایا کہ میرا حکم یہ ہے کہ مستقل عبادت کرو۔روزانہ کی پانچ نمازیں باجماعت ادا کر و جو فرض کی گئی ہیں۔مردوں کے لئے یہی حکم ہے کہ مسجد میں جا کے ادا کریں یا جہاں بھی سنٹر ہے وہاں جا کے ادا کریں،