خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 640 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 640

خطبات مسرور جلد سوم 640 خطبہ جمعہ 28 اکتوبر 2005ء طرف توجہ کریں۔اللہ تعالیٰ کے احکامات پر چلنے کی کوشش کریں، اس سے مدد مانگیں تو یہ احساس اور یہ عمل ہر قسم کی نیکیاں بجالانے کی طرف توجہ دلانے والا ہوگا اور اس کی عبادت کی طرف خالص ہو کر متوجہ کرنے والا ہوگا ، اس کے فضلوں کا وارث بنانے والا ہوگا۔اس آخری عشرہ میں تو پہلے سے بڑھ کر خدا تعالیٰ اپنے بندے کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔قبولیت دعا کے نظارے پہلے سے بڑھ کر ظاہر کرتا ہے بلکہ ان دنوں میں ایک ایسی رات بھی آتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر کہا ہے اور یہ ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔اس ایک رات کی عبادت انسان کو باخدا انسان بنانے کے لئے کافی ہے۔تو اگر ہم اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے خالص ہو کر ان چھ دنوں میں ہی خدا تعالیٰ کے آگے جھکیں گے تو کیا بعید کہ یہ چھ راتیں بلکہ ان میں سے ایک رات ہی ہمارے اندر انقلابی تبدیلی لانے والی ہو، خدا کا صحیح عبد بنانے والی بن جائے اور ہماری دنیا و آخرت سنور جائے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہم اپنے مقصد پیدائش کو پہچاننے والے بن جائیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کا مقصد پیدائش تو یہی بتایا ہے کہ اس کے عبادت گزار بندے بن جائیں۔یہی پیدائش کا مقصد ہے۔پس اپنی عبادتوں کے معیار کو اونچا کرنے کے لئے یہ چند دن رہ گئے ہیں۔اور ان چند دنوں کے بارے میں خدا تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ جو آخری عشرہ کے دن ہیں یہ اس برکتوں والے مہینے کی وجہ سے جہنم سے نجات دلانے کے دن ہیں۔گناہ گار سے گناہ گار شخص بھی اگر خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکے تو اپنے آپ کو آگ سے بچانے والا ہو گا۔پس یہ گناہگار سے گناہ گار شخص کے لئے بھی ایک خوشخبری ہے کہ اپنی زندگیوں کو پاک کرنے کے سامان کر لو۔پس جن کو اس رمضان کے گزرے ہوئے دنوں میں دعاؤں کا موقع ملا ہے، اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کا موقع ملا ہے، اس کی رضا کی راہوں پر چلنے کا موقع ملا ہے یا جن کو اپنی شامت اعمال کی وجہ سے گزرے ہوئے دنوں کی برکات سے فیضیاب ہونے کا موقع نہیں ملا۔ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کی خشیت دل میں پیدا کرتے ہوئے ان آخری دنوں کی برکات سے فیض اٹھاتے ہوئے، دعائیں کرتے ہوئے ، خدا تعالیٰ کا فضل مانگتے ہوئے ان بقیہ دونوں کے فیض سے فیضیاب ہونے کی کوشش کرنی چاہئے۔