خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 627 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 627

خطبات مسرور جلد سوم 627 خطبه جمعه 21 /اکتوبر 2005ء تیز پڑھنے کا مقابلہ کر لیں لیکن بہر حال جس میں مجھے مزا آتا ہے اسی طرح میں پڑھتا ہوں، تلاوت کرتا ہوں۔تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بعض لوگ اپنی علمیت دکھانے کے لئے بھی سمجھتے ہیں کہ تیز پڑھنا بڑا ضروری ہے حالانکہ اللہ اور اللہ کے رسول کہہ رہے ہیں کہ سمجھ کے پڑھوتا کہ تمہیں سمجھ بھی آئے اور یہی مستحسن ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا ہر ایک کی اپنی اپنی استعداد ہے۔ہر ایک کی اپنی سمجھنے کی رفتار اور اخذ کرنے کی قوت بھی ہے تو اس کے مطابق بہر حال ہونا چاہئے اور سمجھ کر قرآن کریم کی تلاوت ہونی چاہئے۔قرآن کریم کا ادب بھی یہی ہے کہ اس کو سمجھ کر پڑھا جائے۔اگر اچھی طرح ترجمہ آتا بھی ہو تب بھی سمجھ کر ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کا حق ادا کرتے ہوئے پڑھنا چاہئے تاکہ ذہن اس حسین تعلیم سے مزید روشن ہو۔پھر جب انسان سمجھ لے، ہر ایک کا اپنا علم ہے اور استعداد ہے جس کے مطابق وہ سمجھ رہا ہوتا ہے جیسا کہ میں نے کہا لیکن قرآن کریم کا فہم حاصل کر کے اس کو بڑھانا بھی مومن کا کام ہے۔ایک جگہ ہی یہ تعلیم محدود نہیں ہو جاتی۔تو جتنی بھی سمجھ ہے، بعض تو بڑے واضح احکام ہیں، سمجھنے کے بعد ان پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔کسی بھی اچھی بات کا یا نصیحت کا فائدہ تبھی ہو سکتا ہے جب وہ نصیحت پڑھ یا سن کر اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی ہو رہی ہو گی۔کیونکہ تلاوت کا ایک مطلب پیروی اور عمل کرنا بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ فرما دیا ہے کہ یہ قرآن میں نے تمہارے لئے ، ہر اس شخص کے لئے جو تمام نیکیوں اور اچھے اعمال کے معیار حاصل کرنا چاہتا ہے اس قرآن کریم میں یہ اعلیٰ معیار حاصل کرنے کے لئے تمام اصول اور ضابطے مہیا کر دیئے ہیں۔ہر قسم کے آدمی کے لئے ، ہر قسم کی استعداد رکھنے والے کے لئے ، اور نہ صرف یہ کہ جیسا کہ میں نے کہا کسی خاص آدمی کے لئے نہیں رکھے ہیں بلکہ ہر طبقے اور ہر معیار کے آدمی کے لئے رکھے ہیں۔اور اس میں ہر آدمی کے لئے نصیحت ہے وہ اپنی استعداد کے مطابق سمجھ لے۔فرمایا کہ ﴿وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مدكر (القمر: 18)۔اور یقیناً ہم نے قرآن کو نصیحت کی خاطر آسان بنا دیا ہے۔پس کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا۔اب یہ ہمارے پر ہے کہ ہم اس تعلیم کو کس حد تک اپنے اوپر لاگو کر تے ہیں اور اس کی تعلیمات سے نصیحت پکڑتے ہیں۔