خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 626
خطبات مسرور جلد سوم 626 خطبه جمعه 21 اکتوبر 2005ء تا کہ آہستہ آہستہ جب پڑھو گے ،غور کرو گے، سمجھو گے تو گہرائی میں جا کر اس کے مختلف معانی تم پر ظاہر ہوں گے۔لیکن جب انہوں نے کہا کہ میرے پاس وقت بھی ہے اور اس بات کی استعداد بھی رکھتا ہوں کہ زیادہ پڑھ سکوں تو آپ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے پھر ایک ہفتہ میں ایک دور مکمل کر لیا کرو اس سے زیادہ نہیں۔تو آپ صحابہ کو سمجھانا چاہتے تھے کہ صرف تلاوت کر لینا، پڑھ لینا کافی نہیں ہے۔انسان جلدی جلدی پڑھنا شروع کرے تو دس گیارہ گھنٹے میں پورا قرآن پڑھ سکتا ہے لیکن اس میں سمجھ خاک بھی نہیں آئے گی۔بعض تراویح پڑھنے والے حفاظ اتنا تیز پڑھتے ہیں کہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ کیا الفاظ پڑھ رہے ہیں۔جماعت میں تو میرے خیال میں اتنا تیز پڑھنے والا شاید کوئی نہ ہو لیکن غیر از جماعت کی مساجد میں تو 18-20 منٹ میں یا زیادہ سے زیادہ آدھے گھنٹے میں ایک پارہ بھی پڑھ لیتے ہیں اور دس گیارہ رکعت نفل بھی پڑھ لیتے ہیں۔تو اتنی جلدی کیا خاک سمجھ آتی ہو گی ؟ تلاوت کرنے کی بھی ہر ایک کی اپنی استعداد ہوتی ہے اور انداز ہوتا ہے۔کوئی واضح الفاظ کے ساتھ زیادہ جلدی بھی پڑھ سکتا ہے۔کچھ زیادہ آرام سے پڑھتے ہیں لیکن ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ تلاوت سمجھ کر کرو۔قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔﴿وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا ﴾ (المزمل: 5) کہ قرآن کو خوب نکھار کر پڑھا کرو۔اب جس نے 20-18 منٹ میں یا آدھے گھنٹے میں نماز پڑھانی ہے اور قرآن کریم کا ایک پارہ بھی ختم کرنا ہے،اس نے کیا سمجھنا ہے اور کیا نکھارنا ہے۔ایک دفعہ میں وقف عارضی پر کسی کے ساتھ گیا ہوا تھا۔تو ایک دن صبح کی نماز کے بعد ہم تلاوت سے فارغ ہوئے تو وہ مجھے کہنے لگے کہ میاں تم سے مجھے ایسی امید نہیں تھی۔میں سمجھا پتہ نہیں مجھ سے کیا غلطی ہو گئی۔میں نے پوچھا ہوا کیا ہے۔کہنے لگے کہ میں دو تین دن سے دیکھ رہا ہوں کہ تم تلاوت کرتے ہو تو بڑی ٹھہر ٹھہر کے تلاوت کرتے ہو۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اسکتے ہو تمہیں ٹھیک طرح قرآن کریم پڑھنا نہیں آتا۔تو میں نے ان کو کہا کہ اٹکتا نہیں ہوں بلکہ مجھے اسی طرح عادت پڑی ہوئی ہے۔ہر ایک کا اپنا اپنا طریق ہوتا ہے۔اس حدیث کا حوالہ تو نہیں پتہ تھا۔قرآن کی یہ آیت میرے ذہن میں نہیں آئی۔لیکن میں نے کہا مجھے تیز پڑھنا بھی آتا ہے بے شک