خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 625
خطبات مسرور جلد سوم 625 خطبه جمعه 21 اکتوبر 2005ء تو یہ تھے وہ لوگ جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوت قدسی اور اس کتاب کے ذریعہ سے نہ صرف انسان بنایا بلکہ عبادت گزار اور باخدا انسان بنایا۔یہ تلاوت کا حق وہ کس طرح ادا کیا کرتے تھے؟۔کیا صرف پڑھ لینے سے ہی حق ادا ہو جاتا ہے؟۔نہیں، بلکہ اس کے بھی کچھ لوازمات ہیں۔اس کے لئے بھی کچھ شرطیں ہیں جن کو پورا کرنا ضروری ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ جس طرح رمضان میں آجکل ہم میں سے ہر کوئی صبح جلدی اٹھتا ہے اور نفل ادا کرتا ہے پھر روزہ رکھنے کے لئے سحری کھاتا ہے، اور پھر نماز کے لئے جاتا ہے۔اگر سحری اور نفل کے درمیان میں وقت ہو تو پھر بعض دفعہ بعض لوگ اُس وقت میں قرآن کریم کی تلاوت بھی کر لیتے ہیں۔نوافل میں قرآن کریم جتنا یاد ہو وہ پڑھا جاتا ہے۔اور پھر نماز کے بعد بھی ہر گھر میں قرآن کریم کی تلاوت ہوتی ہے۔عموماً کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہر گھر میں تلاوت ہو رہی ہو۔کیونکہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جس سے روحانیت میں زیادہ ترقی ہوتی ہے۔اس وقت ایک خاص ماحول ہوتا ہے۔اس طریق کو ہمیں جاری رکھنا چاہئے۔رمضان کے بعد بھی ، روزے تو رمضان کے بعد نہیں رکھنے ہوں گے لیکن نفل ہیں، نماز ہے، قرآن کریم کی تلاوت ہے، وقت پر صبح اٹھنا چاہئے اور یہ کام ضرور کرنے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فجر کے وقت کی تلاوت کی اہمیت بیان فرمائی ہے کہ وَقُرْان الفجر اور قرآن اور فجر کی تلاوت کو اہمیت دو۔اور پھر فرمایا ان قران لْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا (بنی اسرائیل: 79) کہ یقیناً فجر کو قرآن پڑھنا ایسا ہے کہ اس کی گواہی دی جاتی ہے۔پس یہ صبح کے وقت کی تلاوتیں ہر مومن کے لئے گواہ بن رہی ہوں گی۔لیکن کیا صرف پڑھ لینا ہی کافی ہے۔ہماری دنیا و آخرت سنوارنے کے لئے اور ہمارے حق میں گواہی دینے کے لئے صرف اتنا ہی کافی نہیں بلکہ جو تلاوت کی ہے اس کا سمجھنا بھی ضروری ہے۔تبھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کوفر مایا تھا، میں نے ضمناً پہلے بھی ذکر کیا تھا لیکن تفصیلی حدیث یہ ہے۔آپ نے فرمایا : ” قرآن کریم کی تلاوت ایک ماہ میں مکمل کیا کرو“ (بخاری ، کتاب فضائل القرآن ، باب في كم يقرأ القرآن؟)